کمیشن کے 2 ارکان بینچ کا حصہ ہیں‘ وہ کیسے کیس کی سماعت کرسکتے ہیں:جسٹس مسرت ہلالی‘آئینی بینچ نے الیکشن ایکٹ کیخلاف دوبارہ درخواست دائر کرنے کی اجازت دیدی
جب ادارے کام نہیں کرتے تو پھر جگہ تو بنتی ہے، ہر ادارے کو اپنا کام کرنا چاہیے:جسٹس جمال مندو خیل ‘ملازمین کو انتظامی فیصلوں کیخلاف اپیل کا حق دینے کے معاملے پر جواب طلب
اسلام آباد (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )پشاور ہائیکورٹ میں جج کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،ججز کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں نیا آئینی بینچ بنے گا۔ ججز کی تعیانی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نے کی۔اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ کمیشن کے 2 ارکان بینچ کا حصہ ہیں وہ کیسے کیس سن سکتے ہیں؟۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اعتراض لگا کر واپس کیا تو کیا آپ دوبارہ جوڈیشل کمیشن گئے، جوڈیشل کمیشن ایک نام تجویز کرتا ہے تو وہ پارلیمانی کمیٹی جاتا ہے‘ آئینی بینچ نے الیکشن ایکٹ کے خلاف دوبارہ درخواست دائر کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔پی ٹی آئی نے الیکشن ایکٹ ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ کے آئینی بنچ سے درخواست واپس لے لی دریں اثناء ہائیکورٹس کے ملازمین کو انتظامی فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دینے کے معاملے پر آئینی بینچ نے پشاور اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے 10 روز میں جواب طلب کر لیا‘۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹس کی ذمہ داری ہے خود سے رولز بنائیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے رولز بنائے جا رہے ہیں۔ آئینی بینچ نے رائل پام کلب کیس کی مزید سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بینچ نے رائل پام کلب کیس کی سماعت کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رائل پام کلب کی بڈنگ ہوچکی ہے، 11 کمپنیوں نے اشتہار میں دلچسپی لی جبکہ پام کلب کی بڈنگ صرف ایک کمپنی کی جانب سے دی گئی۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے از خود نوٹس لیا اور اب کہا جا رہا ہے پہلے سے کم بڈنگ آئی، اگر پہلے سے کم بڈنگ آئی تو پھر اس کیس کا کیا فیصلہ ہوا۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بڈنگ کو حتمی کرنے سے متعلق عدالت میں رپورٹ دی جائے گی، 3 ہفتوں میں سارا پراسس مکمل کرلیا جائے گا۔ س امین الدین خان نے کہا کہ آئین و قانون سے انحراف کرنے کا مطلب آپ آئین و قانون کو ناکام ثابت کررہے ہیں۔جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا جب ادارے کام نہیں کرتے تو پھر جگہ تو بنتی ہے، ہر ادارے کو اپنا کام کرنا چاہیئے۔ عدالت نے مزید سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔