بھارت کی شیخ حسینہ واجد کی تقریر کے لیے کردار ادا کرنے کی تردید

بھارت کی شیخ حسینہ واجد کی تقریر کے لیے کردار ادا کرنے کی تردید

نئی دہلی: بھارت نے سابق بنگلا دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی بغاوت کو دو سال مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی ورچوئل تقریر کے انعقاد میں کسی بھی سرکاری کردار کی تردید کر دی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس تقریب کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ ڈھاکا نے مقامی میڈیا کو اس خطاب کی کوریج سے روک دیا ہے۔منگل کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ مذکورہ تقریب کے انعقاد میں بھارتی حکومت کا کسی بھی قسم کا کوئی کردار نہیں اور نہ ہی حکومت اس فورم پر پیش کیے جانے والے خیالات کی توثیق کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جس تقریب کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس کا اہتمام ایک نجی میڈیا ادارہ کر رہا ہے۔یاد رہے کہ شیخ حسینہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنی حکومت کے خاتمے کے نتیجے میں نئی دہلی میں خود اختیار کردہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں 2025 میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے سلسلے میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔رپورٹس کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ ڈھاکا سے روانگی کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گی۔وہ نئی دہلی میں فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیرِ اہتمام تقریب سے خطاب کریں گی، جہاں ان کے صاحبزادے سجیب واجد جوئے سمیت دیگر مقررین بھی شریک ہوں گے۔