سینٹرز کا مقصد خواتین کو محفوظ، باوقار اور آسان عدالتی ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر انصاف تک رسائی حاصل کر سکیں‘ علیحدہ استقبالیہ، انتظار گاہیں، واش روم ہونگے
ثالثی اور متبادل حلِ تنازعات کی سہولت، نجی مشاورتی کمرے، قانونی معاونت اور قانونی رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی:چیف جسٹس کی سندھ ہائیکورٹ اور کراچی بار کی خواتین سے گفتگو
کراچی(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے کہا ہے ملک بھر کی عدالتوں میں ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جن کا مقصد خواتین سائلین کو آسان اور سازگار عدالتی ماحول فراہم کرنا ہے۔چیف جسٹس سے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار کی خواتین نمائندگان نے ملاقات کی۔اس موقع چیف جسٹس نے کہا ان سینٹرز کا مقصد خواتین سائلین کو ایک محفوظ، باوقار اور آسان عدالتی ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر انصاف تک رسائی حاصل کر سکیں۔چیف جسٹس کے مطابق ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز میں خواتین کی رازداری، تحفظ اور عدالتی خدمات تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان سینٹرز میں علیحدہ استقبالیہ، انتظار گاہیں، علیحدہ داخلی راستے اور معیاری واش رومز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ثالثی اور متبادل حلِ تنازعات کی سہولت، نجی مشاورتی کمرے، قانونی معاونت اور قانونی رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی۔ ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز میں نفسیاتی معاونت اور متعلقہ اداروں سے رابطے کی سہولت کے ساتھ ساتھ خواتین سائلین اور ان سے ملاقات کرنے والوں کے لیے محفوظ اور باوقار ملاقات کا انتظام بھی میسر ہوگا۔