حضرت داتا گنج بخش کاعرس ختم‘سہولتیں نہ ہونے پر زائرین کو مشکلات

ایک کروڑ 48لاکھ پچاس ہزار کی گرانٹ  کے باوجودسکیورٹی، صفائی، لنگر کی تقسیم احسن طریقے سے نہ ہوسکی
بیت الخلا اور وضو خانوں کی بروقت صفائی پر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی‘شکایات کا ازالہ کیا جائے:زائرین
لاہور ( رپورٹ:شہزاد راجپوت): حضرت داتا گنج بخشؒکے 983ویں سالانہ عرس کے موقع پر محکمہ اوقاف کی جانب سے انتظامات کے لیے معین اوقاف کے ذریعے ایک کروڑ 48لاکھ پچاس ہزار روپے کی سرکاری گرانٹ فراہم کیے جانے، داتا دربار کے کیش باکسز سے حاصل ہونے والی آمدن اور مختلف فلاحی اداروں کے مالی تعاون کے باوجود ہزاروں زائرین کو سیکیورٹی، صفائی، لنگر کی تقسیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عرس میں شرکت کرنے والے متعدد زائرین اور شہری حلقوں نے انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل کے باوجود انتظامات توقعات کے مطابق نہیں تھے۔زائرین کے مطابق عرس کے دوران داتا دربار اور اس کے گردونواح میں غیر معمولی رش کے باوجود سیکیورٹی کے انتظامات ناکافی دکھائی دیے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی بھی نظر نہیں آئی۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صفائی کی صورتحال بھی زائرین کی شدید تنقید کا مرکز بنی رہی۔ زائرین کے مطابق داتا دربار اور اطراف میں جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے رہے جبکہ لنگر کھانے کے بعد پھینکے گئے ڈسپوزیبل باکس، پلیٹیں، گلاس اور دیگر استعمال شدہ سامان طویل وقت تک مختلف مقامات پر بکھرا رہا۔ صفائی کا عملہ موجود ہونے کے باوجود صفائی کا نظام مؤثر دکھائی نہیں دیا۔زائرین نے مزید شکایت کی کہ بیت الخلا اور وضو خانے بھی انتہائی ناگفتہ بہ حالت رہے۔ بیت الخلا میں صفائی کا فقدان جبکہ وضو خانوں میں کھڑا پانی، گندگی اور پھسلن کے باعث نمازیوں اور زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صفائی کا عملہ تعینات ہونے کے باوجود بیت الخلا اور وضو خانوں کی بروقت صفائی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔دوسری جانب لنگر خانوں کے حوالے سے بھی متعدد شکایات سامنے آئیں۔زائرین نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری اوقاف اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عرس کے دوران سامنے آنے والی شکایات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، سرکاری گرانٹ، داتا دربار کی آمدن اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز کے استعمال کا آڈٹ کرایا جائے اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی یا غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔