وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون توڑنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں، چاہے وہ "آنٹی ریحانہ" ہوں یا کوئی اور، قانون 80 سالہ شخص کے لیے ہو یا 18 سالہ نوجوان کے لیے، سب کے لیے برابر ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "آپ اپنے احتجاج کے پروگرام سے انتظامیہ کو کیوں نہیں آگاہ کرتے؟ اگر آپ ہمیں اطلاع دیں تو ہم آپ کو سیکیورٹی اور تحفظ فراہم کریں گے۔"طلال چوہدری نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے یوم استحصال کشمیر اور پی ٹی آئی احتجاج کے سلسلے میں چاروں صوبوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی، اور سب کو ہدایت دی کہ پی ٹی آئی سے رابطہ کریں لیکن کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کو میڈیا سے پتہ چلتا ہے کہ "کے پی ہاؤس میں اکٹھے ہوں گے اور پھر اڈیالہ جائیں گے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ لوگ مجمع بنا کر کسی جگہ پر حملہ کریں۔"انہوں نے مزید کہا کہ "یہ لوگ ہر اس دن احتجاج کرتے ہیں جب پاکستان کے قومی مفاد کا کوئی معاملہ ہوتا ہے۔"
کے پی اور بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ "کے پی کا مسئلہ سیکیورٹی فورسز کا نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی بزدلی کا ہے، اسی طرح بلوچستان میں بھی سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔"انہوں نے واضح کیا کہ "باجوڑ یا کسی اور جگہ پر کوئی نیا آپریشن نہیں ہورہا۔" ان کا کہنا تھا کہ "کے پی اور بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، کیونکہ ان کی غفلت کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑ رہا ہے، اور اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔"
Ask ChatGPT