چینی بحران مافیا آزاد، چھوٹے دکانداروں کا گھیرا تنگ

نجی سیکٹر کوٹہ پورا کرنے کیلئے 173روپے والی چینی مہنگی خرید کر غائب کر رہا ،کڑا پہرہ بھی اسے قابو نہ سکا 
لاہور (کرائم رپورٹر )مارکیٹ سے چینی غائب ہونے کی وجہ سامنے آ گئی ،چینی فراہمی معاملہ پر پرائیویٹ کمرشل سیکٹر کی ہٹ دھرمی سامنے آ ئی ہے۔بڑا شوگر مافیا آزاد ،سینکڑوں چھوٹے دکاندار گراں فروشی پر گرفتار جبکہ محکمہ پرائس کنٹرول اینڈ کاموڈیٹیز کا کڑا پہرہ بھی پرائیویٹ سیکٹر کو نہ پکڑ سکا۔ ذرائع کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر کا اوپن مارکیٹ سے چینی غائب کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔محکمہ خوراک کی طرف سے 30فیصد چینی کوٹہ اوپن مارکیٹ کو فراہم کیا جاتا ہے۔70فیصد چینی کوٹہ پرائیویٹ سیکٹر کو فراہم کیا جاتا ہے۔پچھلے 20روز سے اوپن مارکیٹ سے چینی غائب ہونے کاانکشاف ہوا ہے ،پرائیویٹ سیکٹر کوٹہ پورا کرنے کیلئے مہنگی چینی خرید کر غائب کر رہا ہے۔اوپن مارکیٹ میں سرکاری طور پر 173روپے کلو چینی بھجوائی جارہی ہے،پرائیویٹ سیکٹر 173روپے والی چینی مہنگی خرید کر غائب کر رہا ہے ،شوگر مافیا اور ڈیلرز پرائیویٹ سیکٹر کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ چینی کے مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد نہ کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈائون جاری،گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 480 دکانداروں کیخلاف چینی کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری پر کارروائیاں کی گئیں، پنجاب بھر میں 43 افراد گرفتار، 16 کیخلاف مقدمات درج، 437 افراد کو جرمانے کیے گئے،ابتک 26 ہزار 933 افراد کیخلاف کارروائیوں میں 1777 افراد گرفتار 287 کیخلاف مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ لاہور ڈویڑن میں 48 گرانفروشوں کیخلاف چینی کے نرخوں کی خلاف ورزی پر کارروائیاں کی گئیں ،گوجرانولہ ڈویڑن میں23 ، فیصل آباد میں 79 دکانداروں ،ساہیوال ڈویڑن میں 5، سرگودھا 21 رالپنڈ ی میں 94، بہاولپور ڈویڑن میں 24 ،ڈی جی خان 66اور ملتان میں 120 گرانفروشوں کیخلاف کارروائیاں کی گئیں۔سیکرٹری پرائس کنٹرول اینڈ کماڈیٹیز ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا ہے چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے اور قلت پیدا کرنیوالوں کو گرفتار اور بھاری جرمانے کیے جارہے ہیں۔