پنجاب میں آج سے مزید طوفانی بارشیں

 چناب اور جہلم میں سیلاب کا خدشہ ،گلگت میں ریسکیو آپریشن ختم ،حفاظتی بندوں کی تعمیر کیلئے 2 ارب 76 کروڑ طلب 
 لاہور،اسلام آباد،گلگت (کرائم رپورٹر،خصوصی رپورٹ )پنجاب میں آج 5اگست سے 7اگست تک مزید طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کردیاگیا جس کی وجہ سے سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کے خطرات بھی ظاہر کئے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم اے نے 7 اگست تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، خاص طور پر دریائوں کے بالائی طاس علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے، 5 اگست سے شروع بارشوں کے نتیجے میں دریائے چناب اور جہلم میں سیلاب کا خدشہ ہے،پی ڈی ایم اے نے صوبائی کنٹرول روم سمیت تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو ہائی الرٹ کر دیا۔ راولپنڈی، فیصل آباد، گجرانوالہ ، ملتان، ساہیوال ، جہلم ، چکوال، مری ، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی شدید بارشوں کا خدشہ ہے جبکہ نشیبی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی اور مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔دریں اثناء محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں اس وقت مون سون کا ایک کمزور سسٹم موجود ہے، جس کے باعث بارشوں کی شدت میں کمی ہوئی اور درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 جبکہ زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی)نے آئندہ ہفتے کیلئے ممکنہ موسمی صورتحال پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تربیلاڈیم 90 فیصد اور منگلا ڈیم 60 فیصد بھرچکے ہیں۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں گزشتہ دنوں سیلابی ریلوں میں لاپتا افراد کی تلاش کیلئے 14 روز سے جاری سرچ آپریشن ختم کردیا گیا ہے۔ترجمان جی بی حکومت فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے بچنے کی امیدیں دم توڑ گئیں ،لاپتا افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کردی ۔ادھر محکمہ آبپاشی پنجاب نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں دریائوں کے حفاظتی بندوں کیلئے 2 ارب 76 کروڑ روپے کے فنڈ مانگ لئے ہیں۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق لاہور میں دریائے راوی کے شاہدرہ فلڈ بند پر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے بند کی مرمت میں تاخیر ہوئی تو شاہدرہ کے اطراف آبادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ،راوی کے کنارے کچے کے علاقوں میں بھی فوری بند بنانے کی ضرورت ہے۔ چٹھہ بند میں بلند سطح تک بندوں کی بحالی کیلئے28 کروڑ روپے درکار ہیں۔