افغانستان اور پاکستان میں سوویت و نیٹو اسلحے کی سمگلنگ کاانکشاف

 مشرقی افغانستان اور پاکستان کے قبائلی اضلاع میں سوویت اور نیٹو افواج کا چھوڑا گیا اسلحہ اب بھی دستیاب ہے،رپورٹ
جنیوا(آئی این پی)سوویت اور نیٹو افواج کی جانب سے چھوڑے گئے اسلحے کی سمگلنگ افغانستان اور پاکستان میں جاری ہے۔جنیوا کی تنظیم سمال آرمز سروے کی جانب سے افغانستان میں اسلحے کی دستیابی کو دستاویزی شکل دینے کے عنوان سے شائع ہونے والے تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان کے مشرقی علاقوں اور پاکستان کے قبائلی اضلاع میں سوویت اور نیٹو افواج کا چھوڑا گیا اسلحہ اب بھی دستیاب ہے۔تحقیق کے مطابق طالبان حکومت کے تحت اسلحے پر پابندیوں کے باوجود غیر قانونی تجارت جاری ہے، جس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ممنوعہ تنظیمیں جیسے تحریکِ طالبان پاکستان اور القاعدہ کو مسلسل اسلحہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں میں روایتی ہتھیاروں کے نظام کے حصول کی کوششیں بھی جاری ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکس بشمول ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے ساتھ تعلقات سرحد پار سمگلنگ روکنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران افغانستان و پاکستان سرحدی علاقوں میں غیر رسمی اسلحہ بازار فعال رہا، جہاں امریکی M4 رائفل کی قیمت 2 ہزار 2 سو ڈالرز سے 4 ہزار 8 سو ڈالرز تک رہی۔