سائبر کرائمز ، ارکان اسمبلی کو جعلسازوں کی کالز کا انکشاف

 ایک ہی چھاپے میں لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیو میٹرک ڈیٹا بر آمد 
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں اراکینِ نے سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، چیئرمین قائمہ کمیٹی خرم نواز نے کہا کہ انہیں ہر ہفتے کوریئر کے نام پر جعل سازوں کی کالز آتی ہیں اور ان کا واٹس ایپ تک ہیک ہو چکا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ عام آدمی تو دور کی بات، ہمارے اپنے انگوٹھے کے نشان ان ہیکرز تک کیسے پہنچ جاتے ہیں اور وہ بینک اکاو?نٹس تک رسائی کیسے حاصل کر لیتے ہیں؟ کمیٹی نے سکیورٹی کے قانونی نظام کو فول پروف بنانے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک ہی چھاپے میں ملزموں سے 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیو میٹرک ڈیٹا بر آمد ہوئے ہیں۔ صرف فیصل آباد سے گرفتار ایک ملزم کے قبضے سے 195 ایکٹو موبائل سمز، 16 سمارٹ فونز اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈز پکڑے گئے۔ اس چوری شدہ ڈیٹا اور سمز کے ذریعے شہریوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر مالیاتی فراڈ کیے جا رہے ہیں، تاہم ایجنسی نے واٹس ایپ ہیکنگ کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ اب تک دوسروں کے نام پر جاری ایک کروڑ 80 لاکھ جعلی سمز بلاک کی جا چکی ہیں اور قانون شکنی پر ٹیلی کام کمپنیوں کو ساڑھے 4 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے نے اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا کہ موبائل کمپنیوں کے اپنے اہلکار ڈیٹا لیک کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ راجن پور میں راشن دینے کے بہانے ایک معصوم خاتون کا انگوٹھا لگوا کر سم نکالی گئی جو بعد میں دہشت گردی کے مقاصد میں استعمال ہوئی۔وزیرِ مملکت داخلہ طلال چودھر نے انکشاف کیا کہ ملک میں اب "رینٹ اے بینک اکاو?نٹ"(کرائے کا بینک اکاو?نٹ) کی نئی اور خطرناک سکیم چل رہی ہے۔ لوگ چند پیسوں کی خاطر اپنے بینک اکاو?نٹس کرائے پر دے دیتے ہیں، اکاو?نٹ ہولڈر کو پتہ ہوتا ہے کہ پکڑے جانے پر اسے دو ماہ جیل جانا جانا پڑے گا ،وہ پہلے سے ڈیل کر کے اپنا حصہ حاصل کر لیتا ہے۔