ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، جبکہ تیل جولائی کے وسط کے بعد سب سے بڑے ہفتہ وار اضافے کی جانب گامزن ہے۔
جمعہ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 15 سینٹ، یعنی 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 95.67 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 26 سینٹ، یعنی 0.3 فیصد اضافے کے بعد 91.56 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 7.1 فیصد جبکہ WTI کی قیمت میں 9.8 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 20 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں رواں ہفتے مزید شدت آئی، جب امریکی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ جھڑپیں جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید ترین تصادم قرار دی جا رہی ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کی فوجی اور شہری تنصیبات، بشمول توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کی دوبارہ دھمکی دی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس وقت تک ایران سے مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے بند نہیں کرتا۔آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش مزید بڑھا دی ہے۔ ایران نے ان بحری جہازوں کی فہرست بھی بڑھا دی ہے جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی صورت میں جرمانے، ضبطی یا حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اس بیان سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کو کسی حد تک محدود کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ادھر عراق نے اگست میں تیل کی برآمدات بڑھا کر تقریباً 23 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ کر دیں، جو جولائی کے تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ عراقی حکام کے مطابق ستمبر میں بھی تیل کی برآمدات مزید بڑھنے کی توقع ہے۔