لندن: امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرے لارک پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈی میں ایک بار پھر بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو تشویش ہے کہ اگر لڑائی مزید پھیلی یا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔
برینٹ خام تیل 89 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ کی قیمت 89.18 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 92 سینٹ یا 1.10 فیصد اضافے کے بعد 84.32 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی تنازع اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔
آبنائے ہرمز پر عالمی تشویش
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی محاذ آرائی عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی محدود رہتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ہوسکتا ہے، تاہم اگر تنازع آبنائے ہرمز تک پھیلتا ہے یا وہاں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکا کا لارک جزیرے پر حملہ
امریکا نے حالیہ کارروائی میں ایران کے لارک جزیرے کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق کارروائی کا مقصد ایرانی فورسز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی کارروائی کو روکنا تھا۔امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران جزیرے پر موجود دو ایرانی راکٹ لانچرز کو تباہ کیا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ممکنہ خطرے کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے کی گئی۔
ایران کا امریکا پر جوابی حملہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق لارک جزیرے پر امریکی حملے میں متعدد ایرانی فوجی اہلکار اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔بعد ازاں ایران نے امریکا کو جواب دیتے ہوئے اردن میں موجود امریکی فورسز اور فوجی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ایران کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملے کے جواب میں کی گئی، جبکہ اردن نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں کے لیے اگلے چند دن انتہائی اہم ہوسکتے ہیں۔ اگر امریکا اور ایران مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرتے ہیں تو مارکیٹ میں موجود موجودہ خطرے کا پریمیم کم ہوسکتا ہے اور قیمتیں دوبارہ نیچے آسکتی ہیں۔تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم شدت اختیار کرتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں، تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی کا امکان موجود ہے۔ماہرین کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ موجودہ کشیدگی چند دن میں ختم ہوجائے گی یا کئی ہفتوں تک جاری رہے گی۔ یہی غیر یقینی صورتحال عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔
عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی
تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ، شپنگ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔اگر کشیدگی طویل ہوتی ہے تو درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے توانائی کا بل بڑھ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ اور عالمی معیشت پر دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔یوں امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر یہ خدشہ پیدا کردیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور معیشت کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔