اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے قومی اسمبلی کے ایوان کو غیر قانونی قرار دینے کے دعوے پر ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایوان جعلی ہے تو کیا چیئرمین قائمہ کمیٹی بھی غیر قانونی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان الزام لگاتے ہیں کہ انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، تاہم انہوں نے خود سوا گھنٹے تک تقریر کی۔ ایاز صادق نے کہا کہ یہ کھلا تضاد ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن ایوان میں آ کر احتجاج کرے گی، تو اس کی تقریر کا وقت کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ رولز کے مطابق کام کریں گے اور دو حکومتی ارکان کے بعد ایک اپوزیشن رکن کو بولنے کی اجازت دیں گے۔انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ماضی میں جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی، انہوں نے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے یا سب جیل بنانے کی روایات قائم کی تھیں، اور اب وہ ان روایات کو دوبارہ اپنانے پر غور کریں گے۔
ایاز صادق نے مذاکرات کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتی تھی، لیکن اپوزیشن کو یہ بتایا گیا کہ مذاکرات ختم کرنے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کسی ایک شخصیت کے لیے نہیں ہونے چاہیے، بلکہ تمام فریقین کے لیے ہونے چاہئیں۔آخر میں، انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ شجرکاری کے اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ درختوں کی بے دریغ کٹائی کے بعد نئے پودے لگانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم، وزارت داخلہ اور سی ڈی اے کے اس اقدام کی تعریف کی۔