ملک بھر میں مہنگائی کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور اب عوام کی روزمرہ خوراک کا ایک اور اہم جزو — چاول — بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں مختلف اقسام کے چاولوں کی قیمتوں میں 15 روپے فی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔سپر کائنات چاول 15 روپے اضافے کے بعد 415 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔سپریم کوالٹی سپر کائنات چاول کی قیمت بڑھ کر 440 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔سنگل سٹیم چاول اوپن مارکیٹ میں 400 روپے فی کلو دستیاب ہے۔سپر کرنل چاول کی قیمت 380 سے 385 روپے فی کلو کے درمیان ہے۔جبکہ سیلا چاول کی موجودہ قیمت 390 روپے فی کلو ریکارڈ کی گئی ہے۔دکانداروں اور ہول سیل تاجروں کے مطابق چاول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کسانوں سے مہنگے داموں خریداری، پیداواری لاگت میں اضافہ، اور ٹرانسپورٹیشن چارجز بڑھنے کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے چاول کی ملنگ اور ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر براہِ راست ریٹیل سطح پر پڑا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے زرعی شعبے میں سبسڈی، ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں چاول سمیت دیگر اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔عام صارفین کا کہنا ہے کہ چاول کی قیمتوں میں یہ اضافہ ان کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، کیونکہ چاول پاکستان میں روزمرہ خوراک کا بنیادی جزو ہے اور متوسط طبقے کے لیے اس کی خریداری اب مشکل بنتی جا رہی ہے۔