ٹرمپ کے نکات کے حوالے سے مشاورت کے بغیر ٹویٹ کر دی گئی ، وزیر اعظم کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے
قوم کے جذبات مجروح ہوئے غزہ امن منصوبے پر پارلیمنٹ سے تجاویز لینی چاہیے تھی :اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد، (آن لائن) سابق سپیکر اسد قیصر نے غزہ بارے ڈپٹی وزیر اعظم کی جانب سے کیے گئے حالیہ فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوے کہا ہے کہ وہ خود بھی کنفیوز نظر آئے، فیصلوں میں پارلیمنٹ سے مشاورت کا فقدان تھا، جب اتنے بڑے فیصلے کیے جا رہے ہوں تو پارلیمنٹ سے تجاویز لینا ضروری تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اقومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوے انہوں نے کہا شمع جونیجو والے معاملے پر خواجہ آصف کے بیان اور وزارت خارجہ کے موقف کو متضاد قرار دیتے ہوے کہا کہ خواجہ آصف کو اس معاملے پر ٹی وی انٹرویو میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس خاتون کو کس نے وزیر اعظم کے اسپیچ رائٹر کے طور پر منتخب کیا، اس کی انکوائری کی جانی چاہیے۔پاکستان کے فلسطین کے حوالے سے مؤقف پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں فلسطینی عوام کی رائے کو نظر انداز کرنا قابل قبول نہیں ہے، اور پاکستانی عوام کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے ٹرمپ کے 20 نکات کے حوالے سے کہا کہ ان پر کسی مشاورت کے بغیر ٹویٹ کر دی گئی تھی اور وزیر اعظم کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کی اس حرکت سے قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں