یورپی ماحولیاتی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یورپ میں امراضِ قلب سے ہونے والی ہر پانچ میں سے ایک موت کو فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں انتہائی تبدیلیاں، زہریلے کیمیکلز، آلودگی اور دیگر ماحولیاتی عوامل دل کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جن سے لاکھوں اموات ہوتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2022 میں یورپ میں امراضِ قلب سے 1.7 ملین سے زیادہ اموات ہوئیں، جن میں سے کم از کم 18 فیصد ان ماحولیاتی عوامل سے منسوب ہیں۔ سالانہ تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار افراد فضائی ذرات کی آلودگی کے سبب، اور 1 لاکھ 15 ہزار شدید سردی یا گرمی کی شدت سے ہلاک ہوتے ہیں۔ماحولیاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ آگاہی پھیلانے، شور کی آلودگی کم کرنے اور کیمیائی ضوابط سخت کرنے سے ان اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین نے 2030 تک فضائی آلودگی کو ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، اور اس کے نتائج کے تحت 2005 سے فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں 55 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین میں دل کی بیماریاں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں، جن میں ہر سال کم از کم 6 ملین نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، اور ان سے ملک کی معیشت پر 325 بلین ڈالرز (تقریباً 282 بلین یورو) سے زیادہ خرچ آتا ہے۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کا مؤقف ہے کہ ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے لئے اقدامات اور آگاہی بہت اہم ہیں تاکہ صحت کے اس سنگین مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔