برسلز اور لندن کے درمیان دفاعی شعبے میں تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے مذاکرات کے نئے امکانات زیر غور ہیں۔
برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے واضح کیا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ برطانوی حکومتی وزرا تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ آئندہ ہفتے لندن کا دورہ کریں گے، جہاں تجارت، توانائی اور ماہی گیری جیسے امور پر بات چیت متوقع ہے۔ تاہم، سفارتی ذرائع کے مطابق برطانیہ اس ملاقات کے دوران دفاعی تعاون پر باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔واضح رہے کہ نومبر 2025 میں برطانیہ کی یورپی یونین کے 150 ارب یورو (تقریباً 130 ارب پاؤنڈ) دفاعی فنڈ "SAFE" میں شمولیت کے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ اس وقت یورپی یونین نے شمولیت کے لیے سخت مالی شرائط عائد کی تھیں۔
فرانس نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا، جبکہ جرمنی دیگر ممالک کی حمایت کے ساتھ چاہتا ہے کہ برطانیہ کو SAFE پروگرام میں جلد شامل کیا جائے۔سفارتی ذرائع کے مطابق اب بھی پیرس اور دیگر یورپی ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں، تاہم برطانیہ کی خواہش ہے کہ دفاعی تعاون پر جلد سے جلد مثبت پیش رفت ہو۔