یہ تو ابھی ہماری فوج نے سیاست میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، عاصم منیر اس واقعہ سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے
لگتا ہے فارم 47کی مسلط شدہ حکومت جمہوریت، بشری حقوق، عوام اور پارلیمنٹ سے انتقام لے رہی ہے ،سینیٹرمشتاق
اسلام آباد (آئی این پی) بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکیل انتظار حسین پنجوتھہ کی ویڈیو دیکھنے کے بعد جو آنسو میری آنکھوں سے بہہ رہے ہیں انہیں کیسے روکوں؟ ۔ انتظار حسین پنجوتھہ کے اغوا اور ان کی ڈرامائی واپسی پر ردعمل دیتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا یہ تو ابھی ہماری فوج نے سیاست میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، عاصم منیر اس واقعہ سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ دریں اثناء جماعت اسلامی کے رہنما سابق سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ یہ ہے ریاست کی نظر میں دہشتگرد؟ اسی دہشتگرد کیخلاف اب 3 ماہ کیلئے ریاستی جبری گمشدگی اور اغواکاری کو قانونی تحفظ دینے کیلئے دہشتگردی ایکٹ میں نئی ترامیم لائی گئی ہیں، یہ نامعلوم جو ہیں وہ سب کو معلوم ہیں، اب انہوں نے مظلوموں کے ساتھ توہین و تذلیل کے بعد یہ ڈرامے بھی شروع کر دیئے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اٹارنی جنرل نے کیسے کہا کہ وہ 24 گھنٹوں میں بازیاب ہوجائے گا؟ ان کو اغوا کاروں کا علم تھا اور اس مقام کا بھی جہاں پر ان کو رکھا گیا، کیا سپریم کورٹ انسانی حقوق کی اس ذلت آمیز تلفی پر ایکشن لے گی؟ کیا وہ نامعلوم جو سب کو معلوم ہیں اور جو تمام قوانین سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے ہیں ان کو قانو و آئین کے دائرے میں لائیں گے؟ لگتا ہے موجودہ فارم 47 کی مسلط شدہ حکومت جمہوریت، بشری حقوق، عوام اور پارلیمنٹ سے انتقام لے رہی ہے۔