امریکی سیاستدان مارجری ٹیلر گرین، جو کبھی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں، نے ایران کے خلاف ممکنہ جنگی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے اثرات امریکی زرعی شعبے پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ مستقبل میں والدین اپنے بچوں کو بتائیں گے کہ “ایران جنگ” کے باعث امریکی کھیت متاثر ہوئے کیونکہ کسان مہنگی کھاد خریدنے کے قابل نہیں رہے اور کاشت کاری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔یہ بیان امریکی فارم بیورو فیڈریشن کے ایک تازہ سروے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے مطابق تقریباً 70 فیصد امریکی کسان مطلوبہ مقدار میں کھاد خریدنے سے قاصر ہیں اور بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث فصلوں کا رقبہ کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔مارجری ٹیلر گرین نے ریپبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ امن کی حمایت کے بجائے جنگی بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔اس بیان کے بعد امریکا میں ایران سے متعلق پالیسی کے معاشی اثرات، خصوصاً زرعی معیشت پر دباؤ کے حوالے سے سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔