پاکستان نے افغان طالبان کی مبینہ جارحیت کے جواب میں زمینی اور فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن میں اہم فوجی مرکز بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملے ایک ایئرکرافٹ ہینگر اور دو ویئر ہاؤسز کی تباہی کا سبب بنے۔ اس حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹیں
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے بھی تصدیق کی کہ بگرام ایئربیس پر حملہ کامیابی سے انجام پایا، اور افغانستان کی وزارت دفاع نے بھی پاکستانی فضائی کارروائی کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان نے افغانستان میں 50 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بگرام ایئربیس کو نشانہ بنانا افغان طالبان حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے اور اس سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر افغانستان کے کسی بھی حصے میں کارروائی کر سکتا ہے۔
دہشت گردی اور خطرات
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے بارہا خبردار کرنے کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات جاری رہے، جن میں مبینہ طور پر امریکی چھوڑا گیا اسلحہ بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ اور فوری کارروائی کی ضرورت کی عکاس ہے۔
مجموعی اثرات
پاکستان کی یہ کارروائی نہ صرف افغان طالبان کے لیے ایک پیغام ہے بلکہ یہ خطے میں امریکی اور مقامی مفادات کی حفاظت اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بھی اہم اقدام تصور کی جاتی ہے۔