اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان آن لائن جعلی بھرتیوں کے اشتہارات دیکھ کر تھائی لینڈ پہنچے ، درجنوں خواتین بھی شامل

 برما:500پاکستانی بیگار کیمپوں میں قید
 غیر قانونی طور پر سرحد پار کروا کر برما کے خطرناک علاقوں میں لے جایا گیا، پاسپورٹ ضبط کرکے جعلی کریڈٹ کارڈ سکیمیں، آن لائن دھوکا دہی، کرپٹو کرنسی اور مالیاتی جرائم کروائے گئے، اہل خانہ سے رابطے کی اجازت نہیں 
اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ)برما کے سرحدی علاقوں میں 500 سے زائد پاکستانی نوجوانوں کے جبری قیدی بنائے جانے کا ہولناک انکشاف ہوا ہے جن میں درجنوں خواتین بھی شامل ہیں۔یہ تمام پاکستانی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں تاہم یہ نوجوان آن لائن جعلی بھرتیوں کے اشتہارات دیکھ کر روزگار کی تلاش میں تھائی لینڈ پہنچے، جہاں سے انہیں غیر قانونی طور پر سرحد پار کروا کر برما کے خطرناک علاقوں میں لے جایا گیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے اور انہیں مختلف بیگار کیمپوں میں قید کردیا گیا۔ان پاکستانی قیدیوں کو غیر قانونی کاموں میں زبردستی شامل کیا گیا، جہاں ان سے جعلی کریڈٹ کارڈ سکیمیں، آن لائن دھوکا دہی، کرپٹو کرنسی کے جرائم اور مالیاتی جرائم کروائے گئے۔یہ کیمپ ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں برما کی حکومت کی عملداری ختم ہو چکی ہے اور جرائم پیشہ گروہ حکمرانی کر رہے ہیں۔ یہاں بڑے پیمانے پر کیسینو اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ان قیدیوں پر مسلسل تشدد کیا جا رہا ہے، انہیں تنخواہ دیے بغیر شدید مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور انہیں اپنے اہل خانہ سے رابطے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ مار پیٹ کے ساتھ ساتھ ذہنی اذیت بھی دی جا رہی ہے اور ان کی آزادی مکمل طور پر سلب کر لی گئی ہے۔تھائی لینڈ میں پاکستان کی ہائی کمشنر رخسانہ افضال نے انکشاف کیا کہ پاکستانی سفارت خانہ برما میں قید تمام پاکستانیوں کو نکالنے کیلیے کام کر رہا ہے۔انہوں نے تھائی لینڈ کے دورے پر آئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے ملاقات میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی اور مالی وسائل کی کمی کے سبب مغویوں کی بازیابی میں مشکلات کے حوالے سے آگاہ کیا۔