مولانا فضل الرحمان بیٹے،رفقاء کیخلاف گھیرا تنگ
مالی بے ضابطگیاں اور قانونی خلاف ورزیاں ، مولانا فضل الرحمان کو ایک اور دھچکا ، رفقاء کیخلاف بھی مختلف ادارے متحرک ، قریبی ساتھی کو نوٹس جاری ،امان اللہ کو ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا
لاہور ( خصوصی رپورٹ ) مالی بے ضابطگیاں اور قانونی خلاف ورزیاں ، مولانا فضل الرحمان کو ایک اور دھچکا ، رفقاء کیخلاف بھی مختلف ادارے متحرک ، قریبی ساتھی کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی امان اللہ کو ایف آئی اے اور سی ڈی اے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے اہل خانہ اور قریبی رفقاء کے خلاف مالی بے ضابطگیوں اور قانونی خلاف ورزیوں پر مختلف ادارے متحرک ہو چکے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی امان اللہ کو ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔امان اللہ کو ایف آئی اے نے متعلقہ انکوائری میں دستاویزی اور ڈیجیٹل شواہد سمیت 4 نومبر کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔امان اللہ کو اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات اور سرکاری اراضی پر تجاوزات کے خلاف سی ڈی اے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی حلقوں سے وابستہ متعدد افراد کو ایف آئی اے کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ امان اللہ G-6/4 گلی نمبر 83 اسلام آباد میں اس گھر کے مالک ہیں جس میں مولانا فضل الرحمان رہائش پذیر ہیں۔ مولانافضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کے گرد غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سنگین ہوگیا، نیب اور ایف آئی اے کے باضابطہ نوٹسز سامنے آگئے۔سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر نیب نے طلب کرلیا۔نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کردیا۔نیب نوٹس کے مطابق اسعد محمود کے دورِ وزارت 2022ء اور 2023ء میں پاکستان پوسٹ آفس میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے پاکستان پوسٹ آفس میں 3,938 اسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی، جبکہ مبینہ طور پر 4,252 افراد بھرتی کیے گئے نیب نوٹس میں 2,646 ختم شدہ اسامیوں پر بھرتیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے اور کابینہ کمیٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے۔نیب کے مطابق کنٹریکٹ بنیادوں پر ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے بھرتیوں کی سفارش کے باوجود بڑی تعداد میں مستقل تقرریاں کی گئیں۔مستقل بھرتیوں سے پاکستان پوسٹ آفس پر اضافی مالی بوجھ پڑنے اور بعض منتخب امیدواروں کے سیاسی وابستگی رکھنے کے الزامات بھی نیب تحقیقات کا حصہ جعلی اور بوگس دستاویزات، زائد العمر امیدواروں کی بھرتیوں اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں کے چارجز بھی سامنے آگئے۔نیب نے واضح کیا ہے کہ طلبی کے نوٹس پر عدم تعمیل کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔دوسری جانب ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلب کیا۔ایف آئی اے کے 30 اکتوبر 2026ء کے نوٹس میں اسعد محمود کو 2 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ایف آئی اے نے انکوائری نمبر 197/2026 کے تحت پاکستان پوسٹ آفس میں بھرتیوں کے دوران سنگین بے ضابطگیوں اور مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک ہی معاملے پر نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات کے باعث سابق وفاقی وزیر اسعد محمود کے لیے قانونی مشکلات بڑھنے لگی ہیں۔عوامی وسائل اور سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے اختیارات کا سیاسی استعمال، اب احتسابی اداروں کی تحقیقات کے دائرے میں آ چکا ہے