وزیراعظم شہباز شریف نے افراطِ زر میں مسلسل کمی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ فروری 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد رہی، جو ستمبر 2015 کے بعد سب سے کم ہے۔
جولائی 2024 سے فروری 2025 تک افراطِ زر کی اوسط شرح 5.9 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ اوسط 28 فیصد تھی۔ وزیراعظم نے حکومت کی معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بہتری، کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، اور انہیں امید ہے کہ افراطِ زر میں مزید کمی ہوگی۔
علاوہ ازیں، وزیراعظم سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعظم نے شاہ چارلس سوم کی صحت یابی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا۔
مزید برآں، وزیراعظم نے رمضان المبارک کے دوران سحر و افطار میں گیس کی فراہمی میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس پریشر میں 10 فیصد اضافہ کرنے اور گیس کی ترسیل کے نظام کی نگرانی کے لیے کنٹرول رومز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جنگلی حیات کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے جنگلی حیات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت حیاتیاتی تنوع کی اہمیت سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور پاکستان کی خوبصورت جنگلی حیات کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔