انہیں ماحولیاتی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے مرکز میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تقریب سے خطاب
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ خواتین ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد میں حقیقی ہیروز ہیں اور انہیں ماحولیاتی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے مرکز میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسلام آباد میں جینڈر کلائمیٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی دباؤ اور موسمیاتی بحران کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی اب پالیسی ایجنڈے سے اوجھل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا درجہ حرارت میں اضافے کی 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے آگے بڑھ چکی ہے اور اس بحران کے اثرات پانی، خوراک، زراعت اور معیشت سمیت ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پاکستان میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث فصلوں کی پیداوار اور روایتی کاشتکاری کے طریقے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا تھا اور اس دوران 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین شدید مشکلات کا شکار ہوئیں، حتیٰ کہ بعض خواتین نے کشتیوں میں بچوں کو جنم دیا۔شیری رحمان نے کہا کہ ہر آفت کے اثرات خواتین پر غیر متناسب انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔ تنازعات اور نقل مکانی کے کیمپوں میں خواتین استحصال کے خطرات کا سامنا کرتی ہیں جبکہ خاندان کے کفیل کے انتقال یا نقصان کے بعد کم عمری کی شادیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین پر سرمایہ کاری کے نتیجے میں کمیونٹیز میں کئی گنا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر خواتین کو مواقع، وسائل اور آمدن کے ذرائع فراہم کیے جائیں تو وہ بہتر اور محفوظ مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہی معیشت کا اصل بوجھ خواتین اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں جبکہ آج بھی 72 فیصد خواتین اپنے دن کا بڑا حصہ پانی لانے میں صرف کرتی ہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ میں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دینے سے ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہوا جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے بھی خواتین کو براہ راست مالی معاونت فراہم کرکے انہیں بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی مالک خواتین بہتر کاشتکاری اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں آبی وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور ایل نینو کے ممکنہ اثرات بھی سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بدلتے رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمت اور تیاری کی مضبوط دیواریں کھڑی کرنا ہوں گی۔شیری رحمان نے کہا کہ خواتین فطرت کی محافظ اور معاشرتی استحکام کی بنیاد ہیں، اس لیے شمال سے جنوب تک خواتین میں سرمایہ کاری کا عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنی برادریوں میں مثبت تبدیلی اور پائیدار ترقی کا عمل آگے بڑھا سکیں۔