پنجاب میں 18 سے 20لاکھ کا گردہ دستیاب، لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے سپریم کورٹ

 اعضاء نکالنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں، کوئٹہ میں  کسی کو گردہ چاہئے تو پنجاب سے  مل جاتا ہے،کوئٹہ میں  لوگوں کو  اربوں روپے بھی دو تو گردہ  نہیں دیں گے:جسٹس ہاشم کاکڑ
یہ پنجاب والے اپنا دل گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں؟ ان معاملات میں ڈاکٹرز، ہسپتال اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی ملوث ہوتے ہیں:جسٹس صلاح الدین پنور‘اعضاء کیس میں ریمارکس
اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے دھوکہ دہی کے ذریعے انسانی جسم سے اعضاء نکالنے کے کیس  میں متعلقہ اتھارٹی سے تمام ریکارڈ طلب کرلیاہے اور مزید سماعت گیارہ جون تک ملتوی کرتے ہوئے کہاہے  اہم مقدمہ ہے تمام ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کیاجائیگا۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو ٹیکسلا کے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی سات سال سزا کیخلاف بریت کی درخواست پر سماعت کی پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ اس دوران تین رکنی بینچ کے اہم ترین ریمارکس دیے ہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا غیر قانونی طور پر انسانی اعضاء نکالنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں، کوئٹہ میں اگر کسی کو گردہ چاہئے تو پنجاب سے آسانی سے مل جاتا ہے، پنجاب میں متعلقہ اتھارٹی کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے، پنجاب میں اٹھارہ سے بیس لاکھ کا باآسانی گردہ مل جاتا ہے، لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔سرکاری وکیل پنجاب نے کہاکہ ڈونر کو تو دو سے چار لاکھ ملتے ہیں باقی رقم ایجنٹس کماتے ہیں،  جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کوئٹہ میں تو لوگوں کو اپنا گردہ اتنا عزیز ہوتا ہے کہ اربوں روپے بھی دو تو نہیں دیں گے، جسٹس صلاح الدین پنورنے کہا یہ پنجاب والے اپنا دل گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں؟  جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق الزام ہے کہ ڈاکٹر نے بغیر رضامندی کے بے ہوش کرکے شہری کا گردہ نکالا، وکیل ڈاکٹر نے کہاکہ  اس معاملے میں حقیقت کم اور الزامات زیادہ ہیں، عدالت کو بتایا گیاکہ ملزم ڈاکٹر پر اسی نوعیت کی مزید دس مقدمات بھی درج ہیں،  جسٹس ہاشم کاکڑنے کہاکہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے، انسانی اعضاء کے نکالے جانے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، جسٹس صلاح الدین پنورنے کہا  ان معاملات میں ڈاکٹرز، ہسپتال اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی ملوث ہوتے ہیں،  جسٹس ہاشم کاکڑنے کہاکہ مکمل ریکارڈ منگوا لیں اور بھرپور تیاری کے ساتھ آئیں، پیچیدہ اور اہم معاملہ ہے،  اگلی سماعت پر اس مقدمے کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کریں گے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 جون جمعرات تک ملتوی کردی۔