بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کے بعد جاں بحق افراد کی شناخت، میتوں کی منتقلی اور تحقیقات کا عمل تیزی سے جاری ہے، جبکہ حکومت نے نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کا دفتر سیل کر دیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے 33 افراد کی لاشیں ژوب سول اسپتال منتقل کی گئی ہیں، جن میں سے 26 افراد کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ شناخت ہونے کے بعد ان کی میتیں متعلقہ آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔حکام کے مطابق باقی جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حادثے میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ تاحال 4 خواتین، ایک بچے اور 2 مردوں کی شناخت نہیں ہو سکی، جس کے باعث ان کی میتیں اسپتال میں موجود ہیں۔شناخت ہونے والے افراد کا تعلق مختلف اضلاع سے بتایا گیا ہے جن میں پشاور، مالاکنڈ، باجوڑ، وزیرستان، بنوں، لکی مروت، قلعہ عبداللہ اور بھکر شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں مسافر کوچ کا ڈرائیور بابو استاد بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ کے جبل نور بس ٹرمینل پر واقع اس نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کا دفتر سیل کر دیا ہے، جس کی بس حادثے کا شکار ہوئی تھی۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مبینہ غفلت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد کمپنی کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کمپنی کے خلاف اقدامات جاری رہیں گے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ادھر صوبے بھر میں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مسافر بسوں کی فٹنس، روٹ پرمٹ، حفاظتی انتظامات اور دیگر قانونی تقاضوں کی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ سے خیبر پختونخوا جانے والی مسافر کوچ دانہ سر کے مقام پر گہری کھائی میں گر گئی تھی، جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوئے تھے۔ حادثے کے بعد ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں مکمل کر لی تھیں جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔