متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی کے لیے وفاق کے تحت انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان 2022ء میں شہر کی تعمیر و ترقی سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس پر بلاول بھٹو زرداری نے دستخط بھی کیے تھے، تاہم بار بار یاد دہانی کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کبھی اختیارات نہیں مانگے بلکہ صرف معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو اس معاملے میں کردار ادا کرنا چاہیے، بصورت دیگر جماعت احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق اگر بلدیاتی نظام کو مؤثر بنایا جاتا تو موجودہ مسائل پیدا نہ ہوتے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کوٹہ سسٹم کے تحت کراچی کے حصے میں مکمل حقوق نہیں آئے اور مبینہ طور پر جعلی ڈومیسائل کے ذریعے شہر کے کوٹے پر ملازمتیں دی گئیں۔انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کرے اور کراچی کے لیے ایک انتظامی یونٹ قائم کیا جائے۔ فاروق ستار نے ریفرنڈم کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت احتجاج کی تیاری کر رہی ہے اور “اب فیصلہ کن وقت قریب ہے”، تاہم شہریوں کو کسی بھی اقدام سے قبل متنبہ کر دیا جائے گا۔