پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے باوجود مہنگائی برقرار، عوام پریشان

پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے باوجود مہنگائی برقرار، عوام پریشان

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کے باوجود روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی نہ آ سکی، جس کے باعث شہری اب بھی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اس کے اثرات مارکیٹ میں نظر نہیں آ رہے اور اشیائے خورونوش بدستور مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ درجہ اول کوکنگ آئل اور گھی کی قیمت 605 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح چاول 310 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ بھی کئی مقامات پر سرکاری نرخ نامے سے زائد قیمت پر دستیاب ہیں۔شہریوں کے مطابق سرکاری نرخ 14 روپے ہونے کے باوجود بیشتر علاقوں میں روٹی 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ سبزی اور ترکاری بھی مقررہ نرخوں پر دستیاب نہیں۔عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ صارفین تک پہنچانے کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول کیا جائے، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔