پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا۔تفصیلات کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 88 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 382 روپے 2 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 53 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 389 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شہریوں نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیا، بجلی کے بلوں، گھریلو اخراجات اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے پہلے ہی عام آدمی کی زندگی مشکل بنا رکھی ہے۔ ایسے حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مزید مالی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔شہریوں کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے مالکان تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، مال برداری اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے، مزدوروں، دیہاڑی دار افراد اور محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنا پہلے ہی مشکل ہوچکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ روزانہ سفر کرنے والے افراد کو آمدورفت پر زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کی جائے اور ممکنہ اقدامات کے ذریعے قیمتوں میں کمی لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکا جاسکے۔