سوات کشتی حادثہ:بحریہ کیریٹائر ڈافسر عامر ہندل ماہر تیراک تھے

اپنی جان بچانے کا سوچا لیکن اچانک واپس مڑ گئے اور بچوں کو بانہوں میں لے لیا 
نوجوان بیٹا،2بیٹیاں،امریکا سے آئی بیٹی ان کے 2بچے ڈوبنے والوں میں شامل 
 ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کشتی اور سوار لوگ ڈوب گئے :عینی شاہدین 
 لاہور (خصوصی رپورٹ )سوات میں کشتی کے حادثے میں بچوں سمیت ڈوب کر جاں بحق ہونے والے پاک بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل ایک ماہر تیراک تھے،عینی شاہدین کے مطابق ایک مرتبہ انہوں نے اپنی جان بچانے کیلئے چھلانگ لگانے کی کوشش کی تاہم اپنے بچوں کو دیکھ کر وہ واپس مڑ گئے اور اپنیبچوں کو بانہوں کے حصار میں لے لیا، بتایا گیا ہے کہ عامر ہندل کی بڑی بیٹی امریکا سے چھٹیاں گزارنے آئی تھی، ہندل فیملی نے سوات جانے کا فیصلہ کیا ،اہلخانہ سیف اللہ جھیل میں سیر کے لئے جارہے تھے کہ کشتی اْلٹ گئی، عامر ہندل، اْن کے 20 سالہ بیٹے عبداللہ ہندل، دو بیٹیاں 27 سالہ پروا ہندل اور 23 سالہ رویل ہندل جبکہ پروا ہندل کے دو کمسن بچے ڈوب گئے جبکہ عامر ہندل کی تیسری بیٹی بشریٰ تاحال لاپتا ہے،عامر ہندل اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے اور اسی کوشش میں اپنی جان بھی گنوا بیٹھے۔ مقدمہ متوفی کے بھتیجے کنعان لیاقت کی مدعیت میں تھانہ کالام میں درج کیا گیا ہے ، ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں،عینی شاہد سعد کریم کے مطابق سیف اللہ جھیل میں عام طور پر مسافروں کو کنارے پر کشتی میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے بعد کشتی کو دھکا دے کر گہرے پانی کی جانب لے جایا جاتا ہے اور کچھ فاصلے پر پہنچ کر کشتی کا انجن سٹارٹ کیا جاتا ہے، کشتی نسبتاً گہرے پانی میں پہنچی تو ڈرائیور انجن سٹارٹ نہ کر سکا،کشتی پانی کے بہا ئو کی وجہ سے جلد ہی اْس مقام تک پہنچ گئی تھی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں گِرتا ہے ،ایک دوسری کشتی مدد کے لیے روانہ ہوئی،ایک اور لانچ متاثرہ کشتی کے قریب پہنچ چکی تھی،متاثرہ کشتی میں موجود افراد سے کہا گیا کہ وہ فوراً مدد کے لیے پہنچنے والی لانچ میں چھلانگ لگا دیں ، 'وہ لوگ خوفزدہ تھے اور چھلانگ نہیں لگا رہے تھے۔ خاندان کے سربراہ نے ایک مرتبہ چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی، مگر پھر واپس مڑ گئے اور اپنے بچوں کو سنبھالنے لگے ،پھر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کشتی اور اس میں سوار تمام لوگ بھی ڈوب گئے