ویب ڈیسک: روس نے افغانستان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے، یوں روس دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے طالبان کی امارات اسلامی حکومت کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا ہے۔
افغان سفیر نے اسنادِ سفارت پیش کیں:
افغان طالبان حکومت کے نامزد سفیر نے روس میں اپنی اسنادِ سفارت روسی حکام کو پیش کر دیں۔روسی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دو طرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
روسی مؤقف:
روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق:"طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے روس اور افغانستان کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ ملے گا۔"
طالبان کا ردعمل:
افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے روس کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا:"ہم روس کے اس جرأت مندانہ اور حقیقت پسندانہ فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان شاء اللہ یہ فیصلہ دوسرے ممالک کے لیے بھی مثال بنے گا۔"
پس منظر:
طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان میں حکومت سنبھالی تھی، لیکن اب تک کوئی بھی ملک انہیں باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کر رہا تھا۔روس کی جانب سے یہ پہلا قدم عالمی سفارتی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس فیصلے سے افغانستان کو بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت ملنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، خاص طور پر معاشی اور انسانی امداد کے تناظر میں۔