انصاف لائرز فورم کی قیادت نے بشریٰ بی بی کی فیصلوں میں مداخلت کو تسلیم کر لیا، ذرائع

انصاف لائرز فورم کی قیادت نے بشریٰ بی بی کی فیصلوں میں مداخلت کو تسلیم کر لیا، ذرائع

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی پارٹی اور انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کے معاملات میں مداخلت کی خبریں سامنے آئی ہیں، جن سے پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

بشریٰ بی بی کی مداخلت:
ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے پی ٹی آئی کے قانونی ونگ انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کے فیصلوں میں براہ راست مداخلت کی۔ خاص طور پر، علی زمان، جو کہ آئی ایل ایف کے سیکرٹری جنرل تھے، کے حوالے سے بشریٰ بی بی کا کردار سامنے آیا۔ علی زمان نے قاضی انور کے ساتھ ایک آڈیو میسج میں سخت الفاظ استعمال کیے تھے، جس کے بعد قاضی انور نے علی زمان کی برطرفی کی تجویز پیش کی۔

علی زمان کی برطرفی:
علی زمان کی برطرفی کے معاملے میں بشریٰ بی بی نے اپنی رائے دی اور سیکرٹری جنرل کی ہٹانے کی منظوری دی۔ ذرائع کے مطابق، علی زمان کی برطرفی کے فیصلے کے بعد چیف آرگنائزر شاداب جعفری نے علی زمان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔ بشریٰ بی بی نے علی زمان کی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شکایت عمران خان سے کی۔

پارٹی ذرائع کی اطلاع:
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل سیکرٹری انصاف لائرز فورم کے پی کو بدون شوکاز نوٹس اور بغیر کسی مشاورت کے ہٹایا گیا، جس سے پارٹی کے اندر احتجاج اور تناؤ کی فضا پیدا ہو گئی۔

بشریٰ بی بی کا کردار:
بشریٰ بی بی کی مداخلت پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ پارٹی کے اندرونی فیصلوں میں ان کی مداخلت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر پارٹی کے قانونی ونگ کے معاملات میں ان کی پوزیشن پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

نتیجہ:
یہ تنازعہ پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ بشریٰ بی بی کی مداخلت اور اس کے بعد علی زمان کی برطرفی کے معاملے نے پارٹی میں ایک نیا بحران پیدا کیا ہے، جس پر آئندہ دنوں میں مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔