سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
اس وقت دنیابھرمیں سب سے زیادہ مصائب میں مبتلا امت مسلمہ ہے جس پرچاروں طرف سے ابتلا کی بارش کردی گئی ہے لیکن ہمارے تمام دشمن نہ صرف اکٹھے مل کرمسلمانوں کو نیست ونابودکرنے کی عملی سازشوں میں شریک ہیں بلکہ ہمیں بھی ایک دوسرے کادشمن بنانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اورہم ایک دوسرے کاگلہ کاٹنے میں مصروف ہیں ۔یوں تواس وقت امت مسلمہ کئی مسائل سے دوچارہے لیکن کشمیراورفلسطین دوایسی بڑی مقتل گاہیں بن چکی ہیں جہاں پچھلی سات دہائیوں سے انسانیت مسلسل چیخ وپکارکررہی ہے لیکن خودکومہذب کہلانے والی قومیں نہ صرف بہرے اورگونگے شیطان کاکرداراداکررہی ہیں بلکہ اس ظلم وستم میں برابرکے شریک ہیں۔
کشمیریوں اورفلسطینیوں پرقیامت بیت رہی ہے لیکن صدافسوس کہ یہاں ہماری مسلم حکومتوں کی محفلیں شگوفہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ہمیں کیاہوگیاہے؟بستی میں ایسی بے حسی توکبھی نہ تھی۔درست کہ ہم آج کمزورہیں اوران کی عملی مددسے قاصرہیں لیکن ہم اتناتو کرہی سکتے ہیں کہ یہ دکھ امانت کی طرح سنبھال کررکھیں اورنسلوں کووراثت میں دے جائیں۔کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔وقت کاموسم بدل بھی توسکتاہے۔ہم اتناتوکرسکتے ہیں کہ موسموں کے بدلنے تک اپنے زخموں کوتازہ رکھیں۔اس رستے لہوکو جمنے نہ دیں۔بھلے وقتوں کی بات ہے ابھی روشن خیالی کی مسند مسخروں کے ہاتھ میں نہیں آئی تھی۔ ہمارا ادیب دائیں اور بائیں کی تقسیم سے بے نیاز ہو کر یہ امانت نسلوں تک پہنچا رہا تھا۔
اقبال،قدرت اللہ شہاب،فیض،شورش کاشمیری،انتظارحسین،حبیب جالب،احمد ندیم قاسمی،ابن انشا،احمدفراز،رئیس امروہوی،ن م راشد، مستنصرحسین تارڑ،قر العین حیدر،مظہر الاسلام،اداجعفری،یوسف ظفر،منظورعارف،ضمیرجعفری،خاطرغزنوی،محمودشام،نذیر قیصر،شورش ملک،سلطان رشک، طاہر حنفی، بلقیس محمودمیرے ملک کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں اور نظموں میں اس دکھ کو ٓئندہ نسلوں کیلئے امانت کے طورپرمحفوظ کردیا،یہ مگرگزرے دنوں کی بات ہے۔
فلسطین سے دھواں اٹھتاہے تومراقلم بے اختیارنوحے لکھتاہے لیکن باقی ادیب کیاہوئے؟قلم ٹوٹ گئے،سیاہی خشک ہوگئی یااحساس نے دم توڑدیا؟برسوں پہلے انتظار حسین کاافسانہ’’ شرم الحرم ‘‘پڑھاتھا۔کچھ فقرے آج بھی دل میں ترازو ہیں۔’’بیت المقدس میں کون ہے؟بیت المقدس میں تومیں ہوں،سب ہیں،کوئی نہیں ہے۔بچے کمہارکے بنائے پتلے کوزوں کی طرح توڑے گئے، کنواریاں کنویں میں گرتے ہوئے ڈول کی رسی کی مانند لرزتی ہیں۔ان کی پوشاکیں لیرلیرہیں۔بال کھلے ہیں۔انہیں توآفتاب نے بھی کھلے سرنہیں دیکھاتھا۔عرب کے بہادربیٹے بلندوبالاکھجوروں کی مانندمیدانوں میں پڑے ہیں۔صحراکی ہواؤں نے ان پربین کیے‘‘۔انتظارحسین ہی کے افسانے’’ کانے دجال‘‘ کومیں نے کتنی ہی بارپڑھا۔یہ پیراگراف ہردفعہ خون رلاتاہے۔
’’پلنگ پہ بیٹھی اماں جی چھالیاں کاٹتے رونے لگیں۔انہوں نے سروتاتھالی میں رکھااورآنچل سے آنسوپونچھنے لگیں۔ابا جان کی آواز بھرآئی تھی مگرضبط کرگئے۔اپنے پروقارلہجے میں شروع ہوگئے:آنحضورؓﷺدریاؤں،پہاڑؤں،صحراؤں،سے گزرتے چلے گئے۔ مسجداقصٰی میں جاکرقیام کیا۔حضرت جبرئیل نے عرض کیایاحضرتﷺتشریف لے چلئے،آپ ؓﷺنے پوچھاکہاں؟بولے کہ یانبیؓﷺ زمین کاسفرتمام ہوا۔یہ منزل آخرتھی،اب عالم بالاکاسفردرپیش ہے۔تب حضورؓﷺبلندہوئے اوربلندہوتے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔اباجان کاسرجھک گیا۔پھرانہوں نے ٹھنڈاسانس بھرا۔بولے جہاں ہمارے حضورؓﷺبلندہوئے تھے،وہاں ہم پست ہوگئے۔
لڑکپن جوانی میں بدلااورجوانی ڈھل چلی،کنپٹیوں کے بال اب سفیدہورہے ہیں اورعائشہ اب چہچہاتی ہے کہ باباآپ تو بڈھے ہو گئے۔ لیکن یہ فقرہ آج بھی نیزے کی انی کی طرح وجود میں پیوست ہے جہاں ہمارے حضورؓ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے۔ عشروں پہلے بھی یہ فقرہ پڑھاتوآگے پڑھانہ گیا۔آج بھی یہاں پہنچتاہوں توآنکھوں میں دھنداتر آتی ہے۔سیدعلی گیلانی کانورانی اور پرعزم چہرہ سامنے آن کھڑاہوجاتاہے اورمیں شرمندہ ہوکرافسانہ ایک طرف رکھ دیتاہوں۔
منیرنیازی والامعاملہ درپیش ہوتاہے:اس کے بعداک لمبی چپ اورتیزہواکاشور۔لمحہ موجودکی روشن خیالی کاتوسارابانکپن ہی مسلمانوں پرغرانیاورغراتے رہنے میں ہے۔میں مگر بھلے وقتوں کی بات کررہاہوں۔جب روشن خیالی کی مسندابھی مسخروں کے ہاتھ نہیں آئی تھی۔تب فیض احمد فیض نے فلسطینی مجاہدوں کیلئے ایک ترانہ لکھاتوقرآن کی آیت کوعنوان بنا دیا:لاخوف علیہِم ولاہم یحزنون۔
ابن انشاکی دیوارِگریہ پڑھیے،فیض کی سرِوادیِ سیناکودیکھئے،اداجعفری کی مسجداقصیٰ پرنگاہ ڈالیے،منظورعارف کے آئینے کے داغ دیکھئے،احمدفرازکے بیروت کودیکھئے،رئیس امروہوی کافدیہ اورمحمودشام کی بنت اقصی دیکھئے،آپ کوسطرسطریہ دکھ تازہ ملے گا۔انہوں نے اس دکھ کواگلی نسلوں تک امانت کے طورپرپہنچایالیکن آج کیوں قحط الرجال ہے،یہ میں
نہیں بلکہ بھارت کی بدنام زمانہ جیل میں صعوبتیں برداشت کرنے والی میری مجاہدہ بہن سیدہ آسیہ انداربی اوراس کے ساتھ قیدفہمیدہ اورنسرین پوچھ رہی ہیں اورمیرے پاس
ماسوائے شرمندگی،اس کاکوئی جواب نہیں۔آخرکہاں سے ڈھونڈکرلاؤں اس کاجواب؟ہم نے اس عالم دین کوکشمیرکمیٹی کابرسوں سربراہ رکھاجوعلی اعلان کہتارہاکہ’’پاکستان بننے کی غلطی میں ہماراہاتھ نہیں‘‘لیکن پاکستان کے قومی خزانے سیوہ خود اوراس کے دیگرعزیزواقارب تمام مراعات وصول کررہے ہیں۔’’ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق‘‘
ہم نے تواپنے رب کی اس دھرتی پرسینے پرہاتھ رکھ کرہزاروں کے مجمع میں کشمیرکے وکیل ہونے کادعویٰ کیاتھا،کشمیرکی آزادی کیلئے ہرجمعہ کی دوپہرکوایک گھنٹے کے علامتی مظاہرہ کا اعلان کیاتھا،لیکن ہواکیا؟چندمنٹ کافوٹوسیشن کرکے وکیل کہاں چھپ گیا؟بلکہ کشمیرکے بارے میں جہاد کانعرہ بلندکرنے سے بھی منع کردیاتھا۔کیاپاکستان کومدینہ ریاست بنانے کادعویٰ کرنے سے پہلے یہ سوچانہیں تھاکہ مدینہ کواسلامی اورفلاحی ریاست بنانے کیلئے بدراوراحدکے علاوہ بھی کئی دیگر معرکوں میں میرے آقانبی اکرمﷺکوخودعملی جہادکرناپڑا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہاکہ میں اپناغم اوردردکس سے بیان کروں؟
اس امانت میں صرف دردکااحساس ہی نہیں وقت کے موسموں کے بدلنے کی آس بھی ہے۔مستنصرحسین تارڑکے خانہ بدوش کا آخری پیراگراف پڑھیے:میں سینکڑوں فلسطینیوں سے مل چکاتھامگراحمدایک مختلف انسان تھا۔وہ حقارت سے اسرائیل کاذکرکرتا تھابلکہ ایک سپاٹ اورکاروباری اندازمیں۔وطن اس کیلئے ایک اغواشدہ بچہ تھاجوجذباتی ہونے سے نہیں مل سکتاتھا۔اس کی تلاش میں اس کے نقش نہیں بھولنے تھے اورایک سردمنصوبہ بندی سے خرکارکیمپ تک پہنچناتھا۔ یہی نقش ہم بھولتے جارہے ہیں۔یہ نقش کیسے یادرہتے ہیں؟ ماؤں کی لوریاں انہیں تازہ رکھتی ہیں،نصاب تعلیم تذکیرکاکام کرتاہے،ادیب اورشاعرکاقلم اسے سنوارتارہتاہے۔ ماؤں کے پاس اب وقت نہیں،باپ کی جانے بلا،فلسطین اور کشمیرکیاہے؟نصاب تعلیم اجنبی ہوچکا،اورادیب وشاعرگونگے ہوچکے۔(جاری ہے)