خیالی فتح کے شہسوار اور زمینی حقیقتیں

محمد عرفان چدھڑ 

گزشتہ دنوں بھارتی میڈیا نے ایک ایسا تماشہ لگایا کہ عقل دنگ رہ گئی اور منہ سے بے اختیار قہقہہ نکل گیا۔ خود کو جنوبی ایشیا کا اسرائیل سمجھنے والوں کی جو جگ ہنسائی ہوئی، اْس کی مثال شاید ہی ملے۔ میڈیا کی خبروں سے لے کر سیاسی بیانات تک، سب کچھ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی فلم کا اسکرپٹ چل رہا ہو بس فرق یہ تھا کہ فلم کی ریہرسل بھی مکمل نہ تھی اور حقیقت سے دوری بہت زیادہ تھی۔
بھارتی دعووں کے مطابق، پہلے تو اْنہوں نے پورا پاکستان صفح? ہستی سے مٹا دیا۔ پھر دعویٰ کیا کہ پاکستان کا سپہ سالار گرفتار ہو چکا ہے، اور بھارتی فوج لاہور میں ترنگا لہرا کر جمخانہ کلب میں چائے کی چسکیاں لے رہی ہے۔ لیکن پتہ نہیں پھر کیسے، اسی "گرفتار شدہ آتما" نے بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ عقل دنگ ہے، سائنس بھی خاموش، اور زمینی حقیقت تو بس ہنسی مانگتی ہے۔
ان دعوؤں پر سنجیدہ ہونے کے بجائے پاکستانیوں نے خوب دل کھول کر بھارتی میڈیا کی "جغرافیائی دریافتوں" سے لطف اٹھایا۔ مثلاً، بھارتی اینکرز نے ہمیں بتایا کہ لاہور کی ایک بندرگاہ ہے، چیچہ وطنی کا اپنا ایئرپورٹ ہے، اور شاید اگلی بار ہمیں یہ بھی بتایا جائے گا کہ ملتان میں بحری بیڑہ کھڑا ہے۔ ہم اپنے حکام سے گلہ کرتے تھے کہ وہ معلومات چھپاتے ہیں، مگر شکریہ بھارتی میڈیا کا، جنہوں نے ہمیں ہمارے ہی ملک کے "چھپے ہوئے" اثاثے دکھا دیے۔
ایک بزرگ فرمانے لگے، "بیٹا، ہندوستان کی گنگا میرے کھیتوں سے ہو کر گزرتی ہے، بس یہ بات کسی کو بتانا نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بھارتی میڈیا نے اْس کی لوکیشن گوگل میپ پر دیکھ لی ہو۔
اب اگر بات سنجیدگی سے کی جائے تو مودی سرکار کو اب شاید سمجھ آ گئی ہو کہ پاکستان، فلسطین نہیں۔ یہاں نہ صرف افواج ہوشیار ہیں، بلکہ قوم بھی بیدار ہے۔ ہم وہ نہیں جو تعداد سے ڈر جاییں، ہم وہ ہیں جو جواب دینا جانتے ہیں  وقت پر اور پوری تیاری کے ساتھ۔
چین، ترکی اور آذربائیجان جیسے ممالک نے ثابت کیا کہ دوستی صرف زبانی جمع خرچ کا نام نہیں، بلکہ جب وقت آئے تو عملی حمایت ہی اصل تعلق کی پہچان ہوتی ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کو بھی پیغام دیا کہ اگر کسی کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو یوں کھڑا ہوا جائے کہ ساتھ کا مطلب سمجھ بھی آ جائے اور محسوس بھی ہو۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا: خیالی فتوحات کے خواب دیکھنے والوں کو آئینہ دکھانا بھی ضروری ہوتا ہے، تاکہ وہ اپنی اصل جگہ پہچان سکیں۔ پاکستان کوئی افسانہ نہیں، ایک حقیقت ہے  مضبوط، زندہ اور جواب دینے کی مکمل صلاحیت کے ساتھ۔