جڑانوالہ والا کا موچی 7 کتابوں کا مصنف

    جڑانوالہ (یو این پی)جڑانوالہ کے نواحی قصبے روڈالہ روڈ کے مین بازار میں سڑک کنارے بیٹھا منور شکیل پچھلی 3 دہائیوں سے دیہاتیوں کے پھٹے پرانے جوتے مرمت کرنے میں مصروف ہے۔ حالیہ برسوں میں منور کی عارضی دکان پر جوتے مرمت کروانے والے گاہکوں سے زیادہ ان کی تلخ اور شیریں حقیقتوں پر مبنی شاعری سننے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔منور پنجابی شاعری کی 7 کتابوں کے مصنف ہیں۔ 1969میں پیدا ہونے والے منور شکیل نے 13 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا ۔ ان کی پہلی کتاب ’’سوچ سمندر‘‘ 2004 میں منظرعام پر آئی۔ منور کی دوسری کتاب ’’پردیس دی سنگت‘‘ 2005، تیسری کتاب ’’صدیاں دے بھیت‘‘ 2009، چوتھی کتاب ’’جھورا دھپ گواچی دا‘‘ 2011 ، پانچویں ’’اکھاں مٹی ہوگئیاں‘‘ 2013، چھٹی ''میں نئیں بولدا‘‘ 2020 جبکہ ساتویں غزلوں کا مجموعہ شائع2024میں شائع ہوا۔ ان کی تمام کتابیں ایوارڈ یافتہ ہیں۔ وہ آشنائے ساندل بار، پاکستان رائٹرز گلڈ اور پنجابی سیوک جیسی ادبی تنظیموں سے اب تک کئی ایوارڈ اپنے نام کرچکے ہیں۔