لوگ فتنہ فساد کی سیاست سے تنگ آچکے‘چاہتی ہوں گھٹن زدہ ماحول سے باہر نکلیں مریم نواز

صرف لاہور میں 6, 7 اور8 فروری کو بسنت کی اجازت دی گئی، باقی پنجاب میں پتنگ بازی پر  پابندی ہے،بسنت پنجاب کا تہوار ہے،  خوشی سے منانا چاہیے‘بسنت پر ہماری توقع سے زیادہ رسپانس آیا
 بسنت پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد دیگر شہروں میں جائزہ لیا جائیگا،پنجاب کے کلچر کو اپنائیں، سنبھالیں اور فخر محسوس کریں ‘خوشی منائیں مگر اپنی سلامتی کا بھی خیال کریں، لوگوں کا تحفظ بھی ملحوظ خاطر رکھیں
419بسیں، میٹروبس،اورنج لائن ٹرین اور 6 ہزار  رکشائوں پر سفر  مفت ہوگا،سزا نہیں دینے چاہتے لیکن عوام کے تحفظ کیلئے قانون کا نفاذ ضروری ہے،ہر پتنگ اور ڈور کے پنے پر کیو آر کوڈ درج ہے:وزیراعلی
لاہور(سپیشل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت کی خوشیاں منانے کے لئے شاندار ردعمل دینے پر عوام کا شکریہ ادا کیاہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہا  صرف لاہور میں 6, 7 اور8 فروری کو بسنت کی اجازت دی گئی ہے، باقی پنجاب میں پتنگ بازی پر بدستور پابندی ہے۔ بسنت پر ہماری توقع سے زیادہ رسپانس آیا، بسنت کے پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد دیگر شہروں میں جائزہ لیا جائے گا۔ بلوچستان کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، دعا ہے بلوچستان اور کے پی کے میں امن و سکون ہو۔ بسنت پنجاب کا تہوار ہے، اسے خوشی سے منانا چاہیے۔ پنجاب کے کلچر کو اپنائیں، سنبھالیں اور فخر محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ1250ء میں شروع ہونے والا تہوار،بسنت بہار کی آمد کی نمائندگی کر تی ہے۔ خوشی منائیں مگر اپنی سلامتی کا بھی خیال کریں، آس پاس کے لوگوں کا تحفظ بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ پنجاب میں بسنت کو فول پروف بنانے کے لئے ہر ڈیپارٹمنٹ نے بھرپور کوشش کی۔ تفکرات کو ذہن سے نکالیں، پریشانیاں بھول کر بھرپور خوشی منائیں۔ ہر روٹ پر ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، بائیک کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔بسنت کے تہوار پر عوام کو60ہزار سے زائد رائیڈز مہیا کریں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ 419بسیں، میٹروبس،اورنج لائن ٹرین اور 6 ہزار یانگو رکشے پر سفر بالکل مفت ہوگا۔لاہور میں 7 لاکھ سے زائد بائیکس پر سیفٹی راڈ لگ چکے ہیں۔ گڈے کا سائز 40 ضرب 34انچ ہوگا،پتنگ کا سائز 35 ضرب 30 انچ ہوگا۔ صرف نو دھاگوں پر مشتمل کاٹن کی ڈور کا پنا استعمال ہوگا، چرخی، دھاتی تار، تندی اور بلٹ پروف میٹریل وغیرہ منع ہے۔ ممنوعہ اشیاء کے استعمال پر قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں ضرورت کے تحت باہر سے بھی پتنگیں اور ڈور منگوانے کی اجازت دی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن ایریاز میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ مفت سیفٹی راڈ مہیا کرنے کے لئے کیمپ قائم ہیں، 7 لاکھ راڈ لگ چکے ہیں۔سیفٹی راڈ لگواکر بائیک سوار نقصان اور جرمانے سے بچ سکتے ہیں۔ سیفٹی راڈ کی پابندی کا اطلاق موٹر سائیکل رکشے اور لوڈر رکشے پر بھی ہوگا۔رجسٹرڈ مینو فیکچرز، سیلر، ٹریڈرز اور ایسوسی ایشن ہی کیو آر کوڈ سے مزین پتنگیں اور ڈور وغیرہ مہیا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لئے 90ہزار شورٹی بانڈ لیے گئے ہیں۔ہر ایریا میں تھرمل ڈرون سرویلنس ہورہی ہے، رات کو بھی نگرانی کریں گے۔ لاہور میں بوسیدہ اورخطرناک عمارتوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے، سب سے فٹنس سرٹیفکیٹ لیے گئے ہیں۔کھلی چھت پرچار دیواری نہیں ہوگی تو سیفٹی کے لئے پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہر چھت کو چاروں طرف سے نائیلون کی رسی سے محفوظ بنایا جائے۔ پتنگیں لوٹنے والے بچوں کا بھی خیال رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی ہرتحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں 15رکنی کوئیک رسپانس ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں 51 ایمبولینس، 30 فائر بریگیڈ اور300 موٹرسائیکل ایمبولینس موجود ہوں گی۔ منسٹری آف واٹر اینڈ پاور سے اپیل کرتی ہوں کہ لٹکتے ہوئے تاروں کے گچھے ہٹانے کا انتظام کریں۔بھاٹی گیٹ، موچی گیٹ، فورٹ روڈ، شیرانوالہ گریڈ سٹیشن پر حفاظتی اقدمات مکمل کر لیے گئے ہیں۔لاہور میں ہر ایک کو سیف سٹی کیمروں سے دیکھا جارہا ہے۔ پتنگ بازی قوانین کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف کال کرکے یا پورٹل پر وسل بلوئیر / مخبری یا اطلاع دینے کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ دھاتی ڈور بنتی، بکتی یا استعمال ہوتے دیکھیں تو فوراً کال کریں۔ انہوں نے کہا کہ سزا نہیں دینا چاہتے لیکن عوام کے تحفظ کے لئے قانون کا نفاذ ضروری ہے۔ہر پتنگ اور ڈور کے پنے پر کیو آر کوڈ درج ہے، رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی۔انہوں نے کہا  اب لوگ جلاؤ گھیراؤ کی کال پر کان نہیں دھرتے، لبرٹی چوک کبھی بد تہذیبی کا مرکز تھا، اب کلچرل سنٹر ہے۔ جیل کے باہر ضرور بیٹھیں مگر کے پی کے کے کروڑوں لوگوں کا بھی خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خوف و ہراس سے فائدہ صرف دشمن ملک ہی اٹھاتا ہے۔ لوگ روزگار اور پریشانیوں میں الجھے ہوئے ہیں،خوشی کا بھی وقت ملنا چاہیے۔ہرگھر میں باغ نہیں ہوتا اس لیے ہر شہر میں فیملی پارک بنائے جارہے ہیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ کہتے تھے جو ہمارے ساتھ ہے وہ نیک ہے اور باقی سب چور اور ڈاکو ہیں۔  یہ لوگ املاک کو جلانا سیاست سمجھتے ہیں،گلی محلے میں منفی سوچ پھیلاکر عوام کو سٹریس کا شکار کیا گیا۔ لوگوں کو آگ لگانے، نشانہ بنانے اور آوازیں کسنے کا درس دیا گیا، اپنے بچے باہر بیٹھے تھے، دوسروں کے بچوں کو توڑ پھوڑ سکھائی۔ ہر وقت امن وامان اور برے حالات کا رونا رویا جائے تو ملک دشمن خوش ہوں گے۔ لوگ سرمایہ کاری کے لئے آنا چاہتے ہیں، ہمیں مثبت تصویر پیش کرنی چاہیے۔