پنجاب کابینہ نے کم عمری کی شادیوں کے تدارک کے لیے بل مؤخر کر دیا

پنجاب کابینہ نے کم عمری کی شادیوں کے تدارک کے لیے بل مؤخر کر دیا

پنجاب کی صوبائی کابینہ نے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے پیش کیے گئے بل کو مؤخر کر دیا۔

یہ بل پہلی بار اپریل میں ٹیبل کیا گیا تھا، تاہم تقریباً 10 ماہ گزرنے کے باوجود یہ قانون نہ بن سکا۔بل کو رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے پرائیویٹ ممبر کی حیثیت سے پیش کیا تھا، اور اسے پنجاب حکومت نے منظور کر لیا تھا۔ سارہ احمد جو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن بھی ہیں، نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت اس بل کو پیش کیا اور بتایا کہ اس بل پر 9 سے 10 میٹنگز ہو چکیں۔ انہوں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ برٹش ہائی کمیشن اور مختلف این جی اوز نے اس بل کی تیاری میں بھرپور تعاون کیا ہے، اور حکومت نے بھی اس کی مکمل حمایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی اس معاملے پر سنجیدہ ہیں۔چائلڈ میرج ایکٹ کا مقصد بچوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے، اور اس بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنے پر 3 سال قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

 نکاح خواہوں کو شناختی کارڈ دیکھنے کی پابندی ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے پر والدین، سرپرست، اور نکاح خواہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔تاہم سارہ احمد نے بتایا کہ علمائے کرام کی رائے ابھی تک موصول نہیں ہوئی، اور اسی وجہ سے بل کو مؤخر کیا گیا ہے۔ اس بل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ہوم ڈیپارٹمنٹ، لاء ڈیپارٹمنٹ اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ارکان شامل تھے۔ پنجاب اسمبلی میں اس بل کو منظور کرانے کے عمل میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان اسمبلی کی رائے کے بعد فیصلہ کیا گیا۔