پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر خط لکھ رہاہوں، فوج اور عوام میں خلیج کونہیں بڑھنا چاہیے ‘ یہ فوج اور ملک ہمارا ہے، ہم انتشار نہیں چاہتے
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کے سربراہ کو خط لکھنا پالیسی شفٹ نہیں بلکہ انہوں نے آرمی چیف کو بطور سابق وزیر اعظم خط لکھا، خط کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کردیا جائے گا:بیرسٹرگوہر
راولپنڈی(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے عمران خان نے بطور سابق وزیراعظم آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھ کر ان سے پالیسیوں میں تبدیلی کی اپیل کی ہے۔راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کے سربراہ کو خط لکھنا پالیسی شفٹ نہیں بلکہ انہوں نے آرمی چیف کو بطور سابق وزیر اعظم خط لکھا۔انہوں نے کہا کہ بانی نے آرمی چیف کو اوپن لیٹر لکھا ہے جس کو آج میڈیا کے سامنے بھی پیش کردیا جائے گا، جس میں عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر خط لکھ رہے ہیں۔بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے خط میں فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا فوج اور عوام میں خلیج نہیں بڑھنا چاہیے جس کے لیے انہوں نے آرمی چیف سے پالیسیوں پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ عمران خان نے آرمی چیف کو لکھے خط میں افواج پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ فوج اور ملک ہمارا ہے، ہم انتشار نہیں چاہتے۔خط میں ان کا کہنا تھا کہ ساری چیزوں کا نزلہ فوج پر گررہا ہے، 2024 کا الیکشن، 26ویں آئینی ترمیم، پیکا ایکٹ فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ کمرہ عدالت میں 9 صحافیوں کو خط کی تفصیل بتائی ہے‘وکیل پی ٹی آئی فیصل فرید چودھری نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی نے خط میں لکھا ہے اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہوئی جو خود دو بار کے این آر او زدہ ہیں۔خط میں لکھا گیا ہے کہ فوج اور قوم میں دوریاں پیدا ہو رہی ہیں، ان فاصلوں کی سب سے بڑی وجہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیز ہیں