لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح میں 2024 کے مقابلے میں 2025 میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
یہ خبر خوش آئند ہے، کیونکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں شہر کی ہوا کی حالت بہتر ہوئی ہے، لیکن ماہرین اور ماحولیاتی ادارے اس بہتری کو مستقل اور دیرپا رجحان قرار دینے سے قبل محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اعداد و شمار اور فی صد کمی:
روزانہ اوسط آلودگی: 2025 کے نومبر میں یہ 237 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو کہ 2024 کے بلند ترین سطح 539 مائیکروگرام سے 56 فیصد کم ہے۔
ماہانہ اوسط: 181 مائیکروگرام فی مکعب میٹر، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 37 فیصد کم ہے۔
سالانہ مجموعی کمی: تقریباً 15 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لاہور کی فضائی کیفیت میں نمایاں بہتری آئی ہے، خاص طور پر آلودگی کی بلند ترین سطح میں کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ صحت کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔
ماحولیاتی عوامل اور موسم کا کردار:
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بہتری میں موسم کا بھی اہم کردار ہے۔ بہتر ہوائیں اور فضا میں مکسنگ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جس سے آلودگی کے جمع ہونے کی شرح کم ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، شہر میں دھوئیں اور دھند کی شدت میں کمی بھی دیکھی گئی ہے، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں ایک مثبت پہلو ہے۔
پریشانی کے پہلو:
اگرچہ بلند ترین آلودگی والے دن ختم ہوئے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر فضائی آلودگی کی سطح اب بھی تشویش ناک ہے۔مریم شاہ کے مطابق، نومبر کے تمام 30 دن پورے پنجاب کے ماحولیاتی معیار کے مقابلے میں غیر محفوظ رہے، جہاں صحت کے لیے قابل قبول حد 35 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر ہے، مگر شہر میں یہ حد 237 مائیکروگرام رہی، جو کہ صحت کے لیے خطرناک ہے۔
آئندہ کے امکانات اور سوالات:
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ حالیہ بہتری کو مستقل رجحان قرار دینے کے لیے مزید طویل مدتی اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔ اگر مثبت سلسلہ جاری رہا، تو حکومتی اقدامات کے نتائج واضح ہوں گے، لیکن اگر موسم یا دیگر عوامل میں تبدیلی آئی تو ہمیں پھر سے حقیقی صورتحال کو سمجھنا ہوگا۔