وکلاء کاقتل پنجاب کی تمام 43 ڈسٹرکٹ اور 170 تحصیل بارز میں پولیس کا داخلہ بند

 وکلا کے بائیکاٹ کے دوران عدالت منفی آرڈر نہیں کرے گی، ملزمان کیخلاف وکلا پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے
  وکیل ، جھنگ میں سابق صدر کے قتل کے ملزمان گرفتار نہیں ہوئے، آئی جی وکلا سے ملاقات سے دانستہ طور پر گریزاں ہیں
لاہور(آئی این پی )پنجاب بھر کی تمام 43 ڈسٹرکٹ اور 170 تحصیل بارز میں پولیس کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ پنجاب بار کونسل کی اپیل پر وہاڑی اور جھنگ میں وکلا کے بہیمانہ قتل  کیخلاف ہڑتال  بدھ کے روز بھی جاری رہی  وکلا نے ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور   صوبہ بھر میں  سڑکوں پر جنرل ہائوس  اجلاس منعقد  کئے گئے اور احتجاج کیا گیا  ۔تفصیل کے مطابق  پنجاب بار کونسل کے صدر نے وہاڑی اور جھنگ میں وکلا کے بہیمانہ قتل کے معاملے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ صوبے بھر کی تمام 43 ڈسٹرکٹ اور 170 تحصیل بارز میں پولیس کا داخلہ بند ہو گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف وکلا پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے، دریں اثنا پنجاب بار کونسل کی اپیل پر ضلع کچہری میں وکلا کی ہڑتال بدھ کو بھی  جاری  رہی ۔وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جس سے سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے ۔صدر بارنے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وکلا کے بائیکاٹ کے دوران کوئی عدالت کسی کے خلاف منفی آرڈر نہیں کرے گی، پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشنز سٹرک پر جنرل ہائو س اجلاس منعقد کر رہی ہے ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے وہاڑی میں وکیل کے قتل اور جھنگ میں سابق صدر کے قتل کے ملزمان گرفتار نہیں ہوئے، آئی جی پنجاب وکلا نمائندوں سے ملاقات سے دانستہ طور پر گریزاں ہیں۔