پی آئی اے کی23دسمبر کو نجکاری‘ کارروائی ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی شہبازشریف

نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہے ہیں،  انشا اللہ جلد پی آئی اے ایک مرتبہ پھر سے گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد کی اپنی روایات پر پورا اترنے لگے گی:نجکاری میں حصہ لینے والی کاروباری شخصیات سے ملاقات  میں گفتگو
 صنعتی پیداوار اور تجارت میں اضافے کیلئے مسائل کی نشاندہی ناگزیر ہے ‘ ٹرانزٹ تجارتی مصنوعات کی بارڈر پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی پر کڑی نگرانی ہونی چاہیے: وزیراعظم ‘اصلاحات پر قائم ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر جائزہ اجلاس  
وزیراعظم  کا انڈونیشیا کے صدر سے ٹیلیفون پر  رابطہ ‘  سیلاب اور تودے گرنے سے ہونے والی تباہی اور  جانی نقصان پر اظہار افسوس‘ ہنگامی حالات میں بحالی اور تعمیر نو  کے کام میں معاونت کی پیشکش
اسلام آباد (آئی این پی)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہے ہیں، بِڈنگ ملک بھر میں ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کی جائے گی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینے والی کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندوں نے ملاقات کی، شہباز شریف نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کا کھویا ہوا تشخص بحال کرنے اور قومی ایئرلائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نجکاری کا عمل سہل طور سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی نجکاری میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے، انشا اللہ جلد پی آئی اے ایک مرتبہ پھر سے گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد کی اپنی روایات پر پورا اترنے لگے گا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی دنیا بھر میں پروازوں کی بحالی سے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی سہولت پیدا ہو گی، پاکستان کے سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے بھی قومی ایئر لائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا انتہائی ضروری ہے۔شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ آپ میں سے جو بھی بِڈنگ کے بعد اس اہم ذمہ داری کو سنبھالے گا وہ قومی ایئر لائن کے تشخص کی بحالی اور اس کی ترقی پر اپنی بھرپور توانائیاں مرکوز کرے گا۔
دریں اثناء  شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی صنعتی پیداوار اور تجارت میں اضافے کیلئے مسائل کی نشاندہی ناگزیر ہے، صنعتی مصنوعات کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لئے موثر اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی درآمدات، کسٹمز ڈیوٹی اور تجارتی شعبے میں اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں نمائندہ کاروباری حضرات پر مبنی ذیلی ورکنگ گروپ کے ارکان نے وزیراعظم کو کسٹمز اور ٹیکس وصولی سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا اور اپنی سفارشات پیش کیں۔وزیراعظم نے سفارشات کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دی کہ وہ ملکی صنعتی پیداوار بڑھانے اور کاروباری و سرمایہ کار حضرات کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ قومی ٹیرف پالیسی ملکی صنعتی پیداوار کو مثبت انداز میں سہولت پہنچانے کے لئے نافذ کی گئی ہے تاکہ برآمدات اور درآمدات کو ملکی مجموعی معاشی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے‘علاوہ ازیں  شہباز شریف نے انڈونیشیا بالخصوص سماترا میں قیمتی  انسانی جانوں کے ضیاع  پر انڈونیشیا کی عوام اور حکومت سے پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے دلی تعزیت اور گہری ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان قدرتی آفات  میں اپنے تجربات کی روشنی میں انڈونیشیا کے ساتھ  بڑے پیمانے پر  سیلابی ہنگامی حالات، بحالی اور تعمیرِ نو  کے کام میں معاونت کرنے کے لئے تیار ہے۔