محمد سعد
عید الاضحیٰ ایثار، قربانی اور اللہ کی رضا کا درس دیتی ہے۔ یہ دراصل حضرت ابراہیم کی عظیم قربانی کی یادگار ہے، جہاں انہوں نے اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے دور میں، خاص کر پاکستان میں، ہم اس قربانی کے اصل مقصد کو بھلا چکے ہیں۔
آج قربانی فخر اور ریاکاری کا ذریعہ بن چکی ہے۔ مویشی منڈیوں میں جاتے ہی لوگ اچھے سے اچھا اور مہنگا جانور خریدنے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں، اور پھر اس کی قیمت بتا کر اتراتے پھرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ کو جانور کا خون نہیں پہنچتا بلکہ قربانی کرنے والے کی نیت اور خلوص پہنچتا ہے۔ اگر نیت خالص ہو، تو جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی قربانی اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتی ہے۔ یہ کیسی عید ہے جہاں اللہ کی رضا کے بجائے اپنی بڑائی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے؟
ایک سروے کے مطابق، 2018 کے بعد سے پاکستان میں قربانی بہت مہنگی ہو چکی ہے، جو غریب اور مزدور طبقے کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔ مویشی منڈیوں میں جانور فروخت کرنے والوں کی من مرضی چلتی ہے، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ جس جانور کی قیمت عید سے پہلے ایک لاکھ تھی، وہی عید کے موقع پر دو لاکھ میں فروخت ہوتا ہے۔ یہ ہے مسلمانوں کی "بڑی عید"، جہاں بھائی چارے کے بجائے مہنگائی کا طوفان برپا ہے۔بات صرف جانوروں کی قیمت پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ باقی لوازمات کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ عید کے قریب آتے ہی ٹماٹر جو 40 روپے کلو تھا، یکدم 150 روپے کلو میں فروخت ہونے لگتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ مسلمانوں کی عید ہے اور مسلمان تو "بھائی بھائی" ہیں، لہٰذا بھائی اپنے بھائیوں کا "خیال" رکھ رہے تھے۔ یہ کیسا بھائی چارہ ہے جہاں ہم ایک دوسرے کو لوٹنے میں پیش پیش ہیں؟
قربانی کا اصل مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں میں گوشت بانٹنا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے گوشت سے اپنے فریج بھر لیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں برف کی لاگت بھی دوگنی نہیں بلکہ تگنی ہو گئی ہے، کیونکہ برف بیچنے والے بھی تو "مسلمان" ہی ہیں۔ یہ سارا عمل دکھاوا، ریاکاری اور نفسانی خواہشات کی تکمیل بن چکا ہے، جب کہ اللہ کی رضا اور غریبوں کا خیال پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قربانی کے حقیقی فلسفے کو سمجھیں۔ یہ ریاکاری کا نہیں، بلکہ ایثار اور ہمدردی کا نام ہے۔ یہ محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی انا، خود غرضی اور مادہ پرستی کو قربان کرنے کا پیغام ہے۔ ہمیں اپنے ارد گرد کے غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہیے اور عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کرنا چاہیے تاکہ یہ عید واقعی "بڑی عید" بن سکے۔
ص