پاکستان اور روس کے درمیان خام تیل کی رعایتی نرخوں پر تجارت کا معاہدہ

پاکستان اور روس کے درمیان خام تیل کی رعایتی نرخوں پر تجارت کا معاہدہ

ماسکو میں جاری بین الحکومتی کمیشن (IGC) کے اجلاس کے دوران پاکستان اور روس نے خام تیل کی تجارت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جنوری 2025 سے پاکستان رعایتی نرخوں پر روسی خام تیل درآمد کرے گا، جو توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔

معاہدے کی تفصیلات:
درآمد کی مقدار:
پاکستان ہر ماہ جی ٹو جی (حکومت سے حکومت) انتظام کے تحت روس سے ایک کارگو درآمد کرے گا، جس کے تحت سالانہ 12 کارگو درآمد کیے جائیں گے۔
ادائیگی کا نظام:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے اجلاس کے دوران ادائیگی کے لیے ایک نیا نظام وضع کرنے کی تجویز دی جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہوگا۔
عمل درآمد کا وقت:
یہ معاہدہ جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا، اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (PRL) اس کا اہم حصہ ہوگی۔
پاکستانی وفد کی قیادت:
وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس احمد خان لغاری نے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ انہوں نے روسی حکام سے ملاقات کے دوران اس معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی۔

اجلاس کی اہمیت:
روس کی پیشکش:
روس نے پاکستان کو رعایتی نرخوں پر خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، جسے پاکستان نے قبول کر لیا۔
بینکنگ چینلز کا حل:
اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے بینکنگ چینلز کے ذریعے ادائیگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی امید کا اظہار کیا۔
معاشی اثرات:
یہ معاہدہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
مستقبل کے امکانات:
پاکستان اور روس کے درمیان یہ معاہدہ دونوں ممالک کے معاشی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ حتمی معاہدے پر دستخط آج متوقع ہیں۔

یہ معاہدہ توانائی کے شعبے میں نہ صرف پاکستان کی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی بھی کرتا ہے۔