ڈاکٹر ذکیہ گلفام
وہ الجھا ہوا حلیہ بے رنگ چہرہ آج بھی مجھے یاد ہے، مجھے یاد ہے وہ دسمبر کی اک سرد شام جب منتشر ذہن و سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ کراس نے کہا ( اس وقت ان کی آنکھوں میں بیتے کل کو لے کر آخری امیدجگمگا رہی تھی ) تو۔۔۔۔۔ یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟
مجھے اچھی طرح یاد ہے اس جملے کی ادائیگی کے دوران ایک مٹھی کو زور سے بند کر کے اپنی گود میں رکھ لیا دوسرے ہاتھ سے بینچ کو مضبوطی سے تھاما تھا،یہ ایک طرح سے ان کی لاشعوری کوشش تھی کہ جواب ان کی منشا کے مطابق ہو۔
میں نے پوری زندگی میں اتنا بے بس خود کو کبھی محسوس نہیں کیا تھا ،کاش۔۔۔۔۔ میں ان کے بے ربط لفظوں کو ربط دے پاتا، کاش میں ان کے عارض پہ ڈھلکے ان سہمے آنسوؤں کا مداوا کر پاتا، اس کے متفکر چہرے کو پھر سے رنگوں سے بھرپاتا، کاش میں انہیں یہ کہہ سکتا کہ ان کی کجراری آنکھیں اس دکھ کو سہنے کے لیے بالکل نہیں بنیں،مگر افسوس میں اس وقت معصومہ کو وہ سب نہ کہہ پایا جو میرا دل چاہ رہا تھا بلکہ اس کے سوال کونظر انداز کر کے دل میں ڈھیر ساری خواہشات کا گلا گھونٹ کرسر جھکا کراور اپنے اندر ڈھیر ساری ہمت پیدا کرکے آ ہستگی سے کہا آپ کو جانا چاہیے شام ہونے کا ہے۔
وہ غیر متوقع جواب سن کر عجیب حیران و پریشان انداز میں یک ٹک مجھے کچھ دیر تکتی رہی اور پھر میری بے وفائی کا داغ لے کر وہاں سے چل پڑی۔
معصومہ کو کیا خبر تھی میں نے اسے بیوفائی کا داغ دینا مناسب سمجھا نہ کہ بھری جوانی میں اپنی موت کا صدمہ دینا،اس کو خود سے دور کئے دو سال بیت چکے ہیں‘ خدا جانے اب وہ کہاں پر اور کیسی ہیں؟ اور میں لاہور کے شوکت خانم ہسپتال میں زندگی کے آخری ایام گن رہا ہوں مگر آج بھی اس کے مایوس چہرے کو نہیں بھول پایا