روسی اور شامی فضائیہ کی جانب سے باغیوں کو پسپا کرنے کیلئے فضائی حملے ، امریکا اور اسرائیل شام کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں،صدر بشارالاسد
ترک وزیر خارجہ نے شام میں بڑھتی کشیدگی میں بیرونی مداخلت کے امکان کو مسترد کردیا، امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا کشیدگی روکنے کا مطالبہ
دمشق،انقرہ(آئی این پی ) شام کے صوبہ حلب میں شامی باغیوں اور شامی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، باغیوں نے صدر بشارالاسد کی رہائش گاہ اور ارد گرد قصبوں پر بھی قبضہ کرلیا ، باغیوں کی شیلنگ سے 6شہری جاں بحق ہوگئے جبکہ روسی اور شامی فضائیہ کی جانب سے باغیوں کو پسپا کرنے کیلئے فضائی حملے کیے گئے۔ شام کے صدر بشارالاسد کا ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں شام کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔شامی صدر نے کہا امریکا اور اسرائیل شام کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں ،صورتحال سے خطے کے دیگر ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ٹیلیفونک رابطے میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ بحران پر قابو پانے کے لیے شام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے، خطے میں دہشت گردی پھیلانے کی اسرائیلی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔ ادھر شام کی صورتحال کے پیش نظر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ترکیہ پہنچ گئے ہیں جہاں ترک وزیرخارجہ سے ملاقات کی جس دوران ترکیہ نے فریقین کو مفاہمت کا مشورہ دیا۔ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بیرونی مداخلت کے امکان کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ حزب مخالف اور اسد حکومت کے درمیان بات چیت نہ ہونے کے باعث معاملات اس نہج تک پہنچے ہیں، مخالفین کے جائز مطالبات کو نظرانداز کرنا ایک غلطی تھی۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ خانہ جنگی شدت اختیار کرے، ہم ثالثِی کے لیے تیار ہیں۔ادھر امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی شام میں جاری کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔شام میں باغیوں اور شامی فوجیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلا س طلب کرلیا گیا ۔