راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عوام اور اتحادیوں کا اعتماد کھو چکے ہیں، اس لیے موجودہ نظام کو ختم کر کے ملک میں نئے عام انتخابات کرائے جائیں تاکہ سیاسی بحران کا آئینی اور جمہوری حل نکالا جا سکے۔
اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے اور ایسے حالات میں قومی مفاہمت پر مبنی نیشنل حکومت کی ضرورت ہے، جو ملک کو شفاف انتخابات کی طرف لے جائے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت کے اہم اتحادی ہی وزیراعظم کے مینڈیٹ اور انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہے ہوں تو ہر جمہوری نظام میں وزیراعظم پر لازم ہوتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ ان کے بقول وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایوان کا اعتماد برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ آئینی، قانونی، اصولی اور جمہوری اعتبار سے اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب اتحادی جماعتیں بھی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کریں تو سیاسی طور پر حکومت کا برقرار رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں عدم اعتماد کی تحریک کا واضح طریقہ کار موجود ہے اور اس حوالے سے پارٹی اپنی اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں سے مشاورت کرے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کو ایک ایسے سیاسی بحران سے نکالنا ہے جس کا حل عوام سے نیا مینڈیٹ لینا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ خود انتخابات کو متنازع قرار دیتی ہے تو پھر اسے بھی قومی مفاد میں واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک اہم عوامی اور آئینی معاملہ ہے، جس پر وسیع قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ اسمبلی کے پاس ایسے بنیادی آئینی فیصلے کرنے کا اخلاقی جواز موجود نہیں، کیونکہ اس کی نمائندہ حیثیت پر خود سوالات اٹھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور جمہوری تسلسل کے لیے سسٹم ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام آزادانہ رائے سے اپنی نئی قیادت کا انتخاب کر سکیں۔ بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ موجودہ سیاسی بحران کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ملک کو اس "ڈیفالٹ موڈ" میں کس نے پہنچایا۔انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ موجودہ حالات میں عوام کو مزید غیر یقینی صورتحال میں رکھنا ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔