کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار کی خواتین نمائندگان نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، جس میں خواتین کو انصاف تک آسان رسائی، عدالتی سہولیات اور قانونی پیشے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ خواتین سائلین کو عدالتوں میں زیادہ بہتر، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان مراکز کا مقصد خواتین کو عدالتی عمل کے دوران درپیش مشکلات کو کم کرنا اور انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ قانونی معاونت اور دیگر ضروری سہولیات حاصل کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز میں صرف عدالتی رہنمائی ہی نہیں بلکہ ثالثی (Mediation) اور متبادل حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution) کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی، تاکہ خواتین کے مقدمات کو ممکنہ طور پر جلد اور مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔چیف جسٹس پاکستان کے مطابق ان مراکز میں خواتین کو نفسیاتی معاونت، متعلقہ اداروں سے رابطے اور دیگر ضروری سہولیات تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی، جس سے انصاف کے نظام میں خواتین کی شمولیت اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے لیے بہترین تین ڈیزائن منتخب کر لیے گئے ہیں، جبکہ ان ڈیزائنز کو تمام ہائیکورٹس کے لیے بطور ماڈل فراہم کیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں ایک یکساں نظام قائم کیا جا سکے۔ملاقات میں خواتین وکلاء کی نمائندگان نے خواتین سائلین کے مسائل کو ترجیح دینے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا شکریہ ادا کیا اور انصاف کے شعبے میں خواتین کے کردار اور سہولیات سے متعلق تجاویز پیش کیں۔خواتین وکلاء نے قانونی پیشے میں درپیش مسائل، عدالتی سہولیات اور خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی سے متعلق معاملات بھی اٹھائے۔
چیف جسٹس پاکستان نے خواتین وکلاء کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ہائیکورٹس اور دیگر اداروں سے مشاورت کی جائے گی اور ضروری اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔قانونی ماہرین کے مطابق ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کا قیام خواتین کے لیے عدالتی نظام تک رسائی آسان بنانے اور انہیں بہتر قانونی سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔