ویب ڈیسک: بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی اور استحصال کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ عدالتیں متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔
جنسی جرائم کے بڑھتے کیسز
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں عصمت دری کے 31,677 کیسز درج کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار خواتین کے لیے بدتر ہوتی صورتحال کو اجاگر کرتے ہیں۔
کلکتہ ریپ کیس: انصاف یا تحفظ؟
بھارتی پولیس اہلکار سنجے رائے کو ایک خاتون ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا دی گئی، مگر عدالت نے جرم کو سزائے موت کے قابل نہیں سمجھا۔ جج انیربن داس کے مطابق یہ ایک "معمولی کیس" تھا، جس پر سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
سابقہ کیسز اور بھارت کی عدالتی تاریخ
یہ واقعہ نربھیا ریپ کیس (2012) کی یاد دلاتا ہے، جس نے بھارت میں شدید احتجاجات کو جنم دیا۔ مگر اس کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم میں کمی نہیں آ سکی۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی، ہلاکت، اور ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر آواز بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔بھارت میں خواتین کے حقوق کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، اور عدالتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔