اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ پر اشتعال انگیز دھاوا، 1251 آبادکاروں کی زبردستی رسائی

اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ پر اشتعال انگیز دھاوا، 1251 آبادکاروں کی زبردستی رسائی

ویب ڈیسک: اسرائیل کے انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر نے سینکڑوں غیر قانونی آبادکاروں کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اشتعال انگیز مارچ کیا اور زبردستی داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کیں۔

واقعے کی تفصیل:
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس واقعے میں 1251 آبادکار شامل تھے جنہوں نے اسرائیلی پولیس کی بھاری سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر تلمودی گیت گائے، ناچ گانا کیا اور عبادات ادا کیں۔اس دوران نمازیوں، صحافیوں اور مسجد اقصیٰ کے محافظوں پر حملے کیے گئے۔
عالمی مذمت:
یروشلم کی اسلامی اوقاف، فلسطینی حکام اور یروشلم گورنریٹ نے اسے مسجد کی بے حرمتی اور فلسطینی نمازیوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔سعودی عرب نے اس اقدام کو "انتہائی خطرناک" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی جارحیت کو روکا جائے۔اردن نے کہا کہ مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کو کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں، یہ دراندازی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
فلسطینی ردعمل:
حماس اور فلسطینی اتھارٹی نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان:
بن گویر نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کھڑے ہو کر کہا:"یہ جگہ یہودیوں کے لیے ہے، ہم یہاں ہمیشہ رہیں گے۔"ان کے اس بیان پر دنیا بھر میں شدید ردعمل اور مذمت سامنے آئی ہے۔