وزیراعلی پنجاب کا صوبے کو زہریلے صنعتی مادوں اور دھاتوں سے پاک کرنے کیلئے بڑے آپریشن کا حکم،ہنگامی بنیادوں پر سروے کا آغاز
وزیر اعلی کا ہڈیارہ ڈرین میں زہریلے اور انسانی صحت کیلئے خطرناک کچرا ڈالنے کا نوٹس ، اداروں کو 10 اگست تک ڈرین کی صفائی کی ڈیڈلائن
لاہور(خصوصی رپورٹر )حکومتِ پنجاب نے صوبے کو زہریلے صنعتی مادوں اور دھاتوں سے پاک کرنے کیلئے بڑے آپریشن کا حکم جاری کردیا۔پنجاب بھر میں ہنگامی بنیادوں پر سروے کا آغاز کر دیا گیا، صنعتوں سے نکلنے والے کچرے اور مواد کو نہروں اور نالوں میں پھینکنے پر پابندی ہوگی کیونکہ زہریلا کچرا عوام میں مہلک بیماریاں پھیلانے کی بنیادی وجہ ہے۔صوبے بھر میں ویسٹ ٹریٹمنٹ کے بغیر سوسائٹیاں بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ 28 ہاسنگ سوسائٹیوں اور صنعتوں کو نوٹس جاری کر دئیے گئے۔ وزیر اعلی مریم نواز نے ہڈیارہ ڈرین میں زہریلے اور انسانی صحت کیلئے خطرناک کچرا ڈالنے کا نوٹس لیا اور کارروائی کا حکم دیا۔ انہوں نے اداروں کو 10 اگست تک ہڈیارہ ڈرین کی صفائی کی ڈیڈلائن دے دی۔مریم نواز کی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں انڈسٹریل یونٹس اور ہاسنگ سوسائیٹیوں کے خلاف فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبے بھر میں نہروں اور نالوں کا معائنہ ہوگا جبکہ ماحول کا عالمی معیار قائم کیا جائے گا۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ زہریلے صنعتی کچرے سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور پھیپڑوں کے کینسر سمیت دیگر بیماریاں بڑھ رہی ہیں، فیصل آباد، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور قصور کے صنعتی نالوں کی اسٹڈی مکمل کر لی گئی۔اجلاس میں آلودگی پھیلانے پر جرمانوں کی قانون سازی مکمل کر لی گئی اور فوری عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ حکومت ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کیلیے صنعتوں کو بلاسود قرضے فراہم کرے گی۔مریم اورنگزیب نے ہدایت کی کہ 31 اگست تک مکمل ہیلتھ سروے پیش کیا جائے رپورٹ پر عمل یقینی بنایا جائے، 10 اگست سے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا جائے۔