ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی آج، بھٹو کیس میں قانونی تقاضے نظر انداز ہونے کا ذکر کیا گیا:صدر زرداری

ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی آج، بھٹو کیس میں قانونی تقاضے نظر انداز ہونے کا ذکر کیا گیا:صدر زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو 47 برس قبل قتل کے ایک مقدمے میں آج ہی کے دن راولپنڈی میں پھانسی دی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ مارچ 2024 میں قرار دے چکی ہے کہ اس مقدمے میں ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل منصفانہ نہیں تھا۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مطابق بھٹو کیس میں کئی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا اور اپیل کا حق بھی متاثر ہوا جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔صدر زرداری نے کہا کہ انصاف اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی کیونکہ انصاف کی عدم فراہمی کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 1973 کا آئین بھٹو دور کی ایک بڑی کامیابی ہے جس نے ملک میں جمہوری بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد بھٹو کیس کو دوبارہ کھولا گیا، تاہم اس دوران بھی کئی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔صدرِ مملکت نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے بھی بھٹو کے ٹرائل پر تشویش کا اظہار کیا تھا جو اس مقدمے کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے اس موقع پر بینظیر بھٹو شہید کی جمہوری جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔